ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

بارڈر مینجمنٹ پالیسی : افغانستان سے علاج کیلئے پاکستان آنیوالوں کی تعداد میں کمی،افغان مریض اب کہاں جانے لگے؟ حکومت کا اعتراف

datetime 22  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد( آن لائن ) حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں بارڈر مینجمنٹ پالیسی کی وجہ سے افغانستان سے علاج کے لیے پاکستان آنے والے افراد کی تعداد میں بھارت کے مقابلے میں کمی واقع ہوئی ہے۔ رکنِ قومی اسمبلی مہیش کمار ملانی کی جانب سے گزشتہ 4 سالوں کے دوران افغانستان میں بھیجی جانے والی برآمدات میں کمی کی تفصیلات طلب کرنے پر وزارت کامرس نے تحریری جواب جمع کروایا۔

واضح رہے کہ دوسرے ممالک میں علاج کی غرض سے سفر اختیار کرنے کو میڈیکل ٹوررازم کہا جاتا ہے، 2016 تک پاکستان افغانستان سے آنے والے طبی سیاحوں کا اہم مرکز تھا جس کی وجہ یکساں ثقافت، زبان اور بھارت سمیت خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں علاج کی سستی سہولیات تھیں۔تاہم اب علاج کے لیے پاکستان آنے والے مریضوں کی تعداد میں کمی آگئی ہے جو علاج معالجے کے لیے اب بھارت کا رخ کرتے ہیں۔وزارت کی جانب سے اس تعداد میں کمی کی وجوہات میں متعدد باتوں کا ذکر کیا گیا ہے جس میں پاکستان کی بارڈر مینجمنٹ پالیسی، پاکستانی ویزا کے حصول میں دشواریاں، سرحد پار کرنے کے مقام پر غیر ضروری چیک پوسٹیں، پولیس رپورٹ کا لازم ہونا، ڈاکٹر کا وقت اور رہائش کے انتظام میں مشکلات شامل ہیں۔تحریری جواب میں بتایا گیا کہ افغان مریض پاکستان میں علاج کروانے کو ترجیح دیتے ہیں اس کے باوجود ہر ماہ ہزاروں افغانی علاج کی تلاش میں بھارت جاتے ہیں جس پر یہ تجویز دی گئی کہ پاکستان کو ملک میں صحتی سیاحتی کو ترقی دینے کے لیے سہولیات میں اضافہ کرنا پڑے گا۔اس حوالے سے وزارت کامرس نے ایک جامع پالیسی بھی ترتیب دی تا کہ افغان منڈیوں تک رسائی دوبارہ حاصل کی جائے جو گزشتہ چند سالوں سے دیگر ممالک کی جانب سے منتقل ہوگئیں تھیں جبکہ خدمات کے شعبے میں بڑی مارکیٹ افغان سیاحت کا فروغ ہے۔وزارت کامرس کے مطابق امریکا، چین اور برطانیہ کے بعد افغانستان وہ چوتھا ملک ہے جہاں پاکستان کی برآمدات سب سے زیادہ بھیجی جاتی ہیں، وزارت کامرس سفارتکاری، پالیسی کے قیام، تجارتی ایڈجسٹمنٹ اور سرمایہ کاری کے فروغ کے اقدامات کے ذریعے منڈی پر اثر انداز ہونا چاہتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…