ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

حمزہ شہباز کا توہین آمیز رویہ، ن لیگ میں بغاوتیں شروع!! شریف خاندان کے کون کونسے پرانے ساتھی ساتھ چھوڑ گئے ؟

datetime 22  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)حمزہ شہباز کا توہین آمیز رویہ، محافظ اور ملازمین ساتھ چھوڑنے لگے، پارٹی میں بھی بغاوتیں شروع، قومی اخبار کی رپورٹ میں انکشافات۔ تفصیلات کے مطابق قومی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حمزہ شہباز کے توہین آمیز روئیے کی وجہ سے جہاں پارٹی میں بغاوتیں شروع ہو چکی ہیں وہیں شریف خاندان کے محافظ اور ملازمین بھی ساتھ

چھوڑ چھوڑ کر جانے لگے ہیں۔ چند ماہ میں دو سکیورٹی چیف آفیسرز کرنل ریٹائرڈ موسیٰ، میجر ریٹائرڈ عامر حفیظ، اسٹاف آفیسر ٹو حمزہ شہباز رانا فرحان اور ڈرائیور شوکت نے بھی مسلم لیگ ن سیکرٹریٹ کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ حمزہ شہباز کے ساتھ 6سال تک کام کرنے والے رانا فرحان نے بھی ہتک آمیز روئیے پر کنارہ کشی اختیار کر لی اور استعفیٰ دے دیا ہے جبکہ گاڑی صاف نہ ہونے پر جب حمزہ شہباز نے ڈرائیور کو ڈانٹا تو ڈرائیور شوکت بھی نوکری چھوڑ کر واپس جہلم اپنے گھر چلا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حمزہ شہباز کے توہین آمیز روئیے کی وجہ سے ہی کوئی زیادہ دیر ان کے ساتھ کام نہیں کرتا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل حمزہ شہباز کے ہتک آمیز روئیے سے تنگ آکر پارٹی رہنمائوں سید زعیم حسین قادری اور چوہدری وسی قادر نے پارٹی کو خیرباد کہہ دیا تھا۔ چند روز قبل ایک اجلاس کے دوران حمزہ شہباز نے ڈپٹی میئر وسیم قادر کو تلخ اور بحث کے دوران پانی کی بوتل دے ماری تھی جس کے بعد انہوں نے جواب میں حمزہ شہباز کو بھی بوتل ماری تاہم بعدا زاں انہوں نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر دیا تھا ۔جبکہ اس واقعہ کے بعد حمزہ شہباز نے ن لیگ کے کارکن میاں جمیل کو تھپڑ دے مارا، حمزہ شہباز کے اس ایکشن کے باعث ن لیگی رہنماؤں میں تشویش کی لہر پائی جارہی ہے اور انہوں نے حمزہ شہباز کے رویے کے خلاف پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے نوٹس لینے کی درخواست کی ہے ۔ڈپٹی میئر کے ساتھ تلخ کلامی کی وجہ الیکشن ٹکٹ بنی تھی تاہم میاں جمیل

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…