منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

بول ٹی وی کا این او سی غیر قانونی طور پر جاری کیا گیا ،چوہدری نثار نے ”بول “دیا

datetime 20  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ایگزیکٹ اسکینڈل دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی کا سبب بن رہا ہے لہذا اس حساس معاملے کی شفاف طریقے سے تحقیقات کی جائے گی اوراس حوالے سے کوئی دباوبرداشت نہیں کیا جائے گا۔اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چوہدری نثارعلی کا کہنا تھا کہ ایگزیکٹ کمپنی کے خلاف نیویارک ٹائمز کی رپورٹ انتہائی حساس ہے اس کی وجہ سے بطور ملک پاکستان کی نیک نامی پر سوال اٹھائے جارہے ہیں لہذا اس مسئلے پر انکوائرءکا آغاز کردیا گیا ہے جو شفافیت کے ساتھ بغیر کسی دباو کے مکمل کی جائےگی اورتحقیقاتی رپورٹ پارلیمنٹ سمیت پقوم کے سامنے پیش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے خود بطور وزیرداخلہ نیویارک ٹائمز کی رپورٹ پر انکوائری کے احکامات جاری کئے اور اس معاملے کو انویسٹی گیشن ایجنسی کے سپرد کرتے ہوئے ابتدائی طور پر 7 رکنی کمیٹی تشکیل دی جس میں سائبر کرائم اور کارپوریٹ سیکٹر کے افراد شامل ہیں۔
وفاقی وزیرداخلہ نے کہا کہ ایگزیکٹ کا معاملہ انتہائی وقت طلب ہے جس میں ایک یا دو گھنٹوں میں مجرم کا تعین نہیں کیا جاسکتا، ایگزیکٹ کے کراچی اور راولپنڈی کے دفاتر کو سیل کیا گیا جب کہ 42 سرور ضبط کئے گئے اور 10 ڈائریکٹرز کو نوٹس بھی بھجوادئے گئے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ بول ٹی وی کا این او سی غیر قانونی طور پر جاری کیا گیا جو میں نے روک دیا اور اب متعلقہ کمپنی نے کورٹ سے اسٹے آرڈر لیا ہے۔سانحہ صفورا پر بات کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ کراچی میں دہشت گردوں نے بے گناہ افراد کو نشانہ بنایا جس پر پورا پاکستان افسردہ ہے لیکن یہ بات باعث اطمینان ہے کہ سیکیورٹی ایجنسیوں نے 4 دن کے اندر ہی واقعے کے ماسٹر مائنڈ سمیت متعدد افراد کو گرفتار کرلیا ہے جب کہ ماسٹر مائینڈ کئی سالوں سے ایجنسیوں کو مطلوب تھا جس نے اس سانحے سمیت دیگر اہم واقعات کی ذمہ داری بھی قبول کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انٹیلی جنس اداروں کو قاتلوں کے پیچھے پوشیدہ ہاتھوں کے بارے میں بھی علم ہوگیا ہے اور اس بات پر سندھ پولیس اور سیکیورٹی ادارے مبارک باد کے مستحق ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…