ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

ترکی کی بڑی فتح : امریکا کا فتح اللہ گولن کو ترکی کے حوالے کرنے پر غور

datetime 17  دسمبر‬‮  2018 |

انقرہ(آئی این پی) ترکی کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ترکی کے ہم منصب رجب طیب اردوان کو بتایا ہے کہ واشنگٹن، امریکا میں مقیم ترک مبلغ فتح اللہ گولن کی حوالگی پر غور کر رہا ہے۔ پیر کو بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ترک وزیر خارجہ میولو چاش اوگلو نے دو ہفتے قبل ہونے والے جی 20 اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ارجنٹینا میں

ڈونلڈ ٹرمپ نے رجب طیب اردوان کو کہا کہ وہ فتح اللہ گولن اور دیگر افراد کی حوالگی پر کام کررہا۔واضح رہے کہ ترک حکومت ایک طویل عرصے سے ترکی میں ناکام فوجی بغاوت کا منصوبہ بنانے والے ترک مبلغ فتح اللہ گولن کی حوالگی کا مطالبہ کر رہی ہے، جو تقریبا 2 دہائیوں سے خودساختہ جلاوطنی اختیار کرکے امریکا میں رہائش پذیر ہیں۔ترک انتظامیہ کی جانب سے الزام لگایا جاتا ہے کہ رجب طیب اردوان کے سابق اتحادی فتح اللہ گولن نے اس وقت ناکام فوجی بغاوت کی کوشش کی جب باغی فوجیوں نے ٹینکس اور ہیلی کاپٹرز کو استعمال کیا اور پارلیمنٹ اور غیر مسلح افراد پر حملہ کیا، تاہم فتح اللہ گولن اس ناکام فوجی بغاوت میں ملوث ہونے کا الزام مسترد کرچکے ہیں۔اس معاملے پر جب امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے تبصرہ کرنے کو کہا تو انہوں نے اس پر بات کرنے سے گریز کیا۔ترک وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ فتح اللہ گولن کی حوالگی کی درخواست پر ٹھوس اقدامات دیکھنا چاہتے ہیں، ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ترکی نے امریکا میں مقیم 80 سے زائد فتح اللہ گولن کے پیروکاروں کی حوالگی کی بھی درخواست کی تھی۔میولو چالش اوگلو کا کہنا تھا کہ ہماری توقعات بہت واضح ہیں، ہمارے درمیان دو طرفہ معاہدہ ہے اور وہاں بین الاقوامی قوانین موجود ہیں۔یاد رہے کہ ترکی میں 15 جولائی 2016 کی رات فوج کے ایک باغی گروپ کی جانب سے ملک میں بغاوت کی ناکام کوشش کی گئی تھی، اس ناکام کوشش کے دوران جھڑپوں میں 246 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…