ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایگزیکٹ ملازمین کاتعلیمی ڈگریوں سے متعلق خفیہ کاروبارکا اعتراف

datetime 20  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)آخر کار ایگزیکٹ ملازمین نے تعلیمی ڈگریوں کے حوالے سے اپنے خفیہ کاروبار کا اعتراف کرلیا۔ ایف آئی اے کی تحقیقات میں ایگزیکٹ کے 6ملازمین نے اعتراف کیا ہے کہ ایجوکیشن کنسلٹنسی کے لئے راولپنڈی دفتر میں بیٹھ کر کام کرتے تھے۔ ملازمین نے ایف آئی اے کو قلمبند کرائے گئے بیان میں کہا ہے کہ فون پر مختلف طالبعلموں کو تعلیمی اسناد اور مختلف آن لائن کورسز کے لئے قائل کرتے تھے۔جو طالبعلم قائل ہوجاتا تھا اس کی تفصیلات کراچی آفس میں بھیج دی جاتی تھیں وہاں اس طالبعلم کی فیس جمع ہوتی تھی اور مقررہ مدت کے بعد کراچی سے ہی ڈگریاں طالبعلموں کو بھیج دی جاتی تھیں۔ایف آئی اے کے حکام نے رات گئے ایک قومی روزنامے کے نمائندے کو بتایا ہے کہ ایگزیکٹ کے راو لپنڈ ی دفتر سے جن ملازمین کو حراست میں لیا گیا تھا ان میں سے 23ملازمین کوبیانات قلمبند کرنے کے بعد گھر بھیج دیا گیا ہے۔جب کہ ایف آئی اے حکام نے مزید بتایا ہے کہ چھ ملازمین نے اعتراف کیا ہے کہ ایگزیکٹ کے آئی ٹی دفتر میں بیٹھ کر فون پر مختلف طالبعلموں کو آن لائن ڈگریوں اور اسناد کی تفصیلات کا بتا کر قائل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ملازمین نے ایف آئی اے کو مزید بتایا کہ کچھ طالبعلموں کے لئے آن لائن پریزنٹیشن کا بھی اہتمام کیا جاتا تھا۔ملازمین کا مزید کہنا تھا کہ تمام معلو ما ت کراچی آفس کو موصول ہونے کے بعد اس شخص سے ڈگری کی نوعیت کے مطابق فیس وصو ل کی جاتی تھی۔ایف آئی اے حکام کے مطابق ملازمین نے انکشاف کیا ہے کہ راو لپنڈ ی دفتر کا کام صرف کنسلٹنی فراہم کرنا تھا۔

مزید پڑھیے:نام کا پہلا حرف ۔۔۔ آپ کی شخصیت پر کتنا اثراندازہوتا ہے؟

تمام سسٹم کراچی میں بیٹھ کر آپریٹ کیاجاتا تھا۔جبکہ ایف آئی اے حکام نے مزید بتایا ہے کہ ایگزیکٹ کے راولپنڈی دفتر سے 40 کمپیوٹر اور 2سرورسمیت ہزاروں دستاویزات کا ریکارڈقبضے میں لیا گیا تھا۔جن کو جائزے کے لئے فرانزک لیب بھجوادیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…