منگل‬‮ ، 02 جون‬‮ 2026 

کن دو شہروں کو دیکھ کر ڈیمز کی تعمیر کا خیال میرے ذہن میں آیا؟ چیف جسٹس نے کن علاقوں بارے خطرناک انتباہ جاری کر دیا

datetime 11  دسمبر‬‮  2018 |

کراچی (این این آئی)چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ کراچی اور کوئٹہ کی صورتحال دیکھ کر ڈیم کی تعمیر کا خیال میرے ذہن میں آیا،مجھے نہیں سمجھ آئی کہ کراچی میں پانی کی کمی کیسے ہوئی؟ منگل کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد رکھ دیا۔پاکستان سیکریٹریٹ میں تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس پاکستا ن

میاں ثاقب نثار نے کہا کہ کراچی میں سپریم کورٹ کی نئی عمارت کی اشد ضرورت تھی۔صوبوں میں سپریم کورٹ رجسٹری کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ کراچی میں ایک مافیا ہے، کچھ لوگوں چاہتے ہیں کراچی میں پانی کی مصنوعی قلت پیدا کی جائے،ہماری بیورج انڈسٹری تقریبا سات ارب گیلن پانی استعمال کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کیا عمارت ادارہ ہوتا ہے؟ ایسا ہرگز نہیں ہے،اس عمارت میں بیٹھ کر انصاف کرنے والے ججوں کی اہمیت ہیں،میرے ساتھی ججز اس عمارت میں انصاف کے تقاضے پورے کریں گے،یہ ملک ہمارا ہے، اس میں بے شمار نعمتیں ہیں،تھوڑی خامیاں ہیں، تھوڑی کوششیں کریں تو ملک کو بہت بہتر کرسکتے ہیں،اہم ترین کمی پاکستان میں قربانی کا جذبہ ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ جو قربانی گھر خاندان کے لیے کی جاتی ہے اگر اسی جذبے کے ساتھ ملکی تعمیر میں حصہ لیں گے تو تقدیر بدل جائیگی،بچوں کی تربیت میں کوئی غفلت نہیں برتتا، کوئی اپنے بچے کو خیانت نہیں سکھاتا۔جو کچھ اپنے خاندان کیلئیکرنا چاہتے ہیں اگر وہی ملک کے لیے کرلیا جائے تو چند سالوں میں ملکی تقدیر بدل جائیگی۔انہوں نے کہا کہ عوام کے وسائل اور ان کی ضروریات ترجیح ہونی چاہیے،اگر ترجیحات بدلیں تو مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے،پانی انسان کی زندگی ہے، انسان کا وجود پانی سے جڑا ہے،اگر پانی کے لیے فرائض انجام نہیں دیے 2025 میں طویل بحران کا شکار ہوجائیں گے،نہ صرف ڈیمز بنانے کی ضرورت ہے، پانی کے استعمال میں احتیاط کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کین کون میں چار دن


کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…