پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

قادیانی مذہبی آزادی کے نام پر مسلمانوں کا نام استعمال نہیں کر سکتے ‘آسیہ مسیح کیس میں نظر ثانی اپیل کی فوری سماعت کی جائے ،بڑا مطالبہ کردیاگیا

datetime 8  دسمبر‬‮  2018 |

لاہور ( این این آئی)آئین میں موجود عقیدہ ختم نبوت و ناموس رسالت کے متعلق دفعات کو کوئی قوت ختم نہیں کر سکتی، قادیانی مذہبی آزادی کے نام پر مسلمانوں کا نام استعمال نہیں کر سکتے ، انتہاء پسند اور دہشت گرد عناصر نے اسلام کو شدید نقصان پہنچایا ہے، آسیہ مسیح کیس میں نظر ثانی اپیل کی فوری سماعت کی جائے ، افواج پاکستان اور ملک کے مقتدر اداروں کے خلاف فتویٰ بازی کرنے والے ثبوت پیش کریں ورنہ حد قذف کے تحت ان کے خلاف کاروائی کی جائے ۔

یہ بات پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین اور وفاق المساجد پاکستان کے صدر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے المصطفیٰ پارک میں سیرت رحمت للعالمین ؐ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اس موقع پر مولانا عبد الحمید وٹو ،مولانا اسد اللہ فاروق ، مولانا شکیل قاسمی، مولانا اسید الرحمن سعید، مولانا محمد اشفاق پتافی ، قاضی مطیع اللہ سعیدی، مولانا محمد اسلم قادری ، مولانا قاری عبد الحکیم اطہر ، مولانا عبد القیوم فاروقی ، مولانا زبیر زاہد نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت و ناموس رسالت اور مدارس کے نام پر مذہبی طبقے کو خوفزدہ کیا جا رہا ہے ، دنیا کی قوت پاکستان کے آئین اور دستور میں موجود اسلامی دفعات کو ختم نہیں کر سکتی ، مدارس اسلام اور پاکستان کی خدمت کر رہے ہیں ، عمران خان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مدارس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی اور نہ ہی مدارس کو بند کرنے کی حکومت کی کوئی پالیسی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگ صرف سیاست کیلئے عقیدہ ختم نبوت اور مدارس کا نام استعمال کر رہے ہیں، علماء اسلام کو ایسے عناصر کا مقابلہ کرنا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور اسلامی ملک میں رہنے والے غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ حکومت اور مسلمانوں کی ذمہ داری ہے ۔ پاکستان میں رہنے والے غیر مسلموں کو کسی سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے ، انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کا احترام تمام مذاہب اور مکاتب کو کرنا ہے ،

قادیانیوں کی طرف سے مذہبی آزادی کے نام پر آئین پاکستان کی خلاف ورزی انتشار کا سبب ہے ، قادیانی آئین پاکستان کو قبول کریں اور چناب نگر میں نو گو ایریاز کو ختم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان علماء کونسل کے تحت آج گوجرانوالہ میں عظیم الشان رحمت للعالمین ؐ کانفرنس ہو گی اور 06 جنوری کو اسلام آباد اور 03 مارچ کو چوتھی عالمی پیغام اسلام کانفرنس کنونشن سنٹر اسلام آباد میں منعقد کی جائے گی جس میں مفتی اعظم فلسطین ، امام کعبہ اور دنیا کی اہم شخصیات کو مدعو کیا جائے گا۔

کانفرنس کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمودا شرفی نے کہا کہ افواج پاکستان اور ملک کے مقتدر اداروں پر فتوے لگانے والے ثبوت مہیا کریں ورنہ حکومت ان کے خلاف حد قذف جاری کرے اور آئین اور قانون پاکستان کے مطابق ان کے خلاف ایکشن لیا جائے ۔ افواج پاکستان اور قوم کے درمیان قائم اعتماد کی وجہ سے دہشت گردی اور انتہاء پسندی کا خاتمہ ہوا ہے اور انتہاء پسندی اور دہشت گردی پھیلانے والے اسلام کے بھی دشمن ہیں اور دنیاء اسلام کو متحد ہو کر ان کا مقابلہ کرنا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…