منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

روپے کی قدر میں تاریخی کمی،حکومت تو کچھ نہ کرپائی لیکن قائمہ کمیٹی نے بڑا ایکشن لے لیا،سنسنی خیز انکشافات متوقع

datetime 8  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین سینیٹر رحمن ملک نے روپے کی قدر میں مسلسل کمی کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے رپورٹ طلب کرلی۔سینیٹر رحمن ملک نے کہا کہ روپے کی قدر مسلسل گرنے پر ایف آئی اے جامع رپورٹ 22 دسمبر تک کمیٹی کو جمع کرائے، ساتھ ہی غیر ملکی زرمبادلہ ایکٹ کے تحت تمام اسٹیک ہولڈرز سے تفتیش کرے۔

رحمن ملک نے کہا کہ ایف آئی اے تفتیش کرے کہ روپے کی قدر میں اچانک کمی اور اس میں مسلسل گراوٹ کی کیا وجوہات ہیں۔قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ یہ پریشان کن بات ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کو روپے کی قدر میں کمی کا پہلے سے علم نہ ہو۔سینیٹر رحمن ملک نے مزید کہا کہ روپے کی قدر گرنے میں غیر ملکی ایکسچینج ایجنٹس کا کیا کردار ہے، معلوم کیا جائے کہ کہیں ڈالر کی قلت اس کی قیمت بڑھانے کے لیے مصنوعی طور پر تو پیدا نہیں کی جارہی کیونکہ ماضی میں یہ ہوتا رہا ہے کہ کچھ ایجنٹ مل کر مارکیٹ سے ڈالر غائب کرکے مصنوعی قلت پیدا کرتے تھے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے کہا کہ ڈالر غائب ہوجانے کے بعد اسٹیٹ بینک کو کچھ ناگزیر وجوہات کی وجہ سے ڈالر مہنگے داموں لینا پڑتا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ کون اور کتنے وقت میں روپے کو گرانے کا فیصلہ کرتے ہیں؟ کیا روپے کی قدر گرانے سے کسی خاص گروپ نے تو فائدہ نہیں اٹھایا؟سینیٹر رحمن ملک نے کہا کہ کیا روپے کی قدر کم کرتے وقت اس کی رازداری کو ملحوظ خاطر رکھا گیا تھا؟ان کا کہنا تھا کہ 17 جولائی کو ڈالر کی قیمت اچانک 107 سے 128 روپے ہوئی اور پھر 128 سے 134 جبکہ 30 نومبر کو یہ قیمت مزید بڑھتے ہوئے 144 روپے تک پہنچ گئی۔رحمن ملک نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرضوں کی ادائیگی کے لیے کیے وعدوں اور معاہدوں کو سامنے لائے اور ایف آئی اے روپے کی قدر گرنے میں غیرملکی زرمبادلہ، وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے کردار کو دیکھے۔ان کا کہنا تھا کہ وقت کی ضروت ہے کہ روپے کی قدر گرنے کے پیچھے عوامل معلوم کیے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…