منگل‬‮ ، 10 فروری‬‮ 2026 

’’تھر‘‘ میں معصوم بچوں کی ہلاکت پرحکمرانوں کی مجرمانہ غفلت،اب کوئی بھی نہیں بچے گا،چیف جسٹس ثاقب نثار نے بڑے اقدام کا اعلان کردیا، کھلبلی مچ گئی

datetime 7  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے 12 دسمبر کو تھر کا دورہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سندھ حکومت کو انتظامات کرنے کی ہدایت کردی۔ جمعہ کو چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل سپریم کورٹ بینچ نے تھر میں بچوں کی اموات سے متعلق کیس کی سماعت کی۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے کہا کہ ‘میں 12 دسمبر کو تھر جا رہا ہوں، حکومت سندھ انتظامات کرے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تھر میں نومولود بچے ہلاک ہو رہے ہیں، وہاں پانی کی فراہمی اور دستیابی کے بھی مسائل ہیں، صرف اچھے علاقے نہ دکھائیں، مجھے وہ علاقے بھی دکھائیں جہاں غربت اور مسائل ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ گزشتہ سماعت پر عدالت نے سیشن جج سے رپورٹ مانگی تھی۔انہوں نے بتایا کہ متاثرہ افراد میں خوراک کی تقسیم کر دی گئی ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 12 دسمبر کو تھر جا کر خود اس معاملے کو دیکھیں گے، پھر معاملے کو سننا بہتر ہوگا۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے جواب دیا کہ جب تک آپ آئیں گے حالات بہتر ہو چکے ہوں گے اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ تھر میں ڈاکٹروں کو کیا اضافی مراعات دے رہے ہیں؟ جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ گریڈ ون سے 11 تک کے ملازمین کو 10 ہزار اضافی، گریڈ 12 سے 16 تک کے ملازمین کو 17 ہزار اضافی، گریڈ 17 کے ملازمین کو 90 ہزار جبکہ گریڈ 18 سے اوپر 1 لاکھ 40 ہزار اضافی دے رہے ہیں۔سماعت کے دوران رکن اسمبلی رمیش کمار ونکوانی نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤسنگ اسکیم کو تھر میں لایا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مٹھی میں زچہ و بچہ کے لیے ڈاکٹرز نہیں ہیں جبکہ تھر میں جانوروں کے ڈاکٹروں کی بھی ضرورت ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اپنی آنکھوں سے اصل صورتحال کے بعد اس معاملے کو سنیں گے۔

عدالت عظمیٰ نے عدالتی معاون فیصل صدیقی سے سندھ حکومت کی درخواست پر کمنٹس دینے کو کہا۔جس پر عدالتی معاون فیصل صدیقی نے کہا کہ تھر میں احتساب اور نگرانی کے موثر نظام کی ضرورت ہے لہذا ایک عدالتی کمیشن مقرر کر دیا جائے۔ عدالتی معاون فیصل صدیقی نے کہا کہ تھر میں بینک قرضوں کا بہت بڑا معاملہ ہے اور قرضوں کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں جس پر نمائندہ اسٹیٹ بینک نے عدالت کو آگاہ کیا کہ کسانوں کے قرضے کو ری شیڈول کر رہے ہیں۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 11 اور 12 دسمبر کو کراچی جا رہے ہیں، سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں کمیشن بنا دیں گے بعدازاں عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…