اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

نئے پاکستان میں پرانی فنکاریاں ،ملکی خزانے کو اربوں کا ٹیکہ لگانے کی تیاری!!گیس کی قلت پیدا کرکے عوام کی جیبیں خالی کرنے کا منصوبہ بنا لیا گیا

datetime 7  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)آئل مافیا کا ایک اور وار، ملکی خزانے کو اربوں کا ٹیکہ لگانے کی تیاری، گیس کی قلت پیدا کرنے کا منصوبہ بنا لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق حکومت نے پاور سیکٹر کیلئے فرنس آئل کی درآمد پر پابندی عائد کرتے ہوئے فیصلہ کیا تھا کہ فرنس آئل کی جگہ ایل این جی سے بجلی پیدا کی جائے گی ، حکومتی فیصلے کے بعد پاور سیکٹرکو آئل کی ترسیل بند کر دی گئی تھی

لیکن اب آئل مافیا متحرک ہو گیا ہے اور اس نے ملکی خزانے کو نہ صرف اربوں کا ٹیکہ لگانے کی تیاری کر لی ہے بلکہ ملک میں گیس کی قلت پیدا کر کے عوام کو اذیت میں ڈال کر اپنی جیبیں بھرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے ۔ حکومت کے فرنس آئل کے بجائے ایل این جی سے بجلی پیدا کرنے کے فیصلے کے بعد اب خبر یہ ہے کہ وزارت پٹرولیم نے ایل این جی کی پوری ایک کنسائنمنٹ کینسل کر دی ہے اور دسمبر میں پاکستان آنیوالے جہاز کو یہ کہہ کر کینسل کر دیا ہے کہ جہاز اب جون میں بھیجا جائے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان آنیوالے جہاز پر ایک لاکھ 30ہزار میٹرک ٹن ایل این جی آنا تھی تاہم اب جہاز کی آمد منسوخ ہونے سےایل این جی کمپنی کو ایک ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو چارجز پڑیں گےاور فی ایم ایم بی ٹی یو پاکستان کو 12روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑی جبکہ جون میں ایل این جی مہنگی ہو جائے گی جس سے اس کی ترسیلی فیس میں بھی اضافہ ہو جائے گا ۔ذرائع کے مطابق یہ سب کام فرنس آئل کا جواز پیدا کرنے کیلئے آئل مافیا کی جانب سے کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ گیس سے بجلی کی پیداور سے قومی خزانے پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوئے تھے اور 2.6ارب ڈالر کی بچت ہوئی تھی جس سے کثیر زرمبادلہ بھی بچا تھا۔ خیال رہے کہ مائع قدرتی گیس سے پیدا ہونیوالی بجلی فی یونٹ 9.72روپے جبکہ فرنس آئل سے پیدا ہونیوالی بجلی فی یونٹ 13.55روپے میں پڑتی ہے۔ گیس کے بجائے تیل سے بجلی پیدا ہونے سے صارفین کی جیبوں پر بوجھ جبکہ آئل مافیا کی جیبیں بھرنے ہونگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…