پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

کتنے فیصد پاکستانی پی ٹی آئی حکومت کی 100روزہ کارکردگی سے مطمئن نکلے؟ چاروں وزرائے اعلیٰ میں کس کی کارکردگی بہتر رہی؟سروے کے ایسے حیران کن نتائج سامنے آگئے کہ جان کر کپتان کے ٹائیگرز شرم سے پانی پانی ہو جائیں

datetime 5  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ نے کہاہے کہ پاکستان کے صرف 27 فیصد عوام سمجھتے ہیں کہ پی ٹی آئی کی موجودہ وفاقی حکومت 100 دن کے پلان پر عمل درآمد میں کامیاب رہی جب کہ 23 فیصد افراد کی رائے ہے کہ وفاقی حکومت اپنے 100 روزہ پلان پر عمل درآمد میں مکمل ناکام رہی ، وزرائے اعلیٰ کی کارکردگی کی بھی دوڑ لگ گئی ،

وزیراعلیٰ سندھ کے حوالے سے سب سے زیادہ 16 فیصد عوام نے مطمئن ہونے کی رائے دی۔وزیراعلی پنجاب کی کارکردگی سے 13 فیصد، وزیراعلی خیبرپختونخوا سے 10 فیصد اور وزیراعلی بلوچستان کی کارکردگی سے محض دو فیصد عوام مطمئن نظر آئے۔ وفاقی حکومت کے 100 دن کی کارکردگی پر انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ کے ادارے تحت کیے گئے سروے میں عوام نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔یہ سروے چاروں صوبوں کے منتخب 2041 بالغ رہائشیوں کی رائے پر مبنی ہے۔یہ سروے 29 نومبر سے یکم دسمبر کے دوران کمپیوٹر اسسٹنٹ ٹیلی فونک انٹرویوز کی مدد سے کیا گیا۔وفاقی حکومت کی 100 دن کی کارکردگی سے متعلق 30 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ ابھی اس بارے میں کوئی تبصرہ کرنا انتہائی قبل از وقت ہے۔سروے کے مطابق مجموعی طور پر پی ٹی آئی کی حکومت سے مطمئن افراد کی شرح 47 فیصد رہی جب کہ صوبائی سطح پر دیکھا جائے تو خیبر پختونخوا کے 51 فیصد افراد اور پنجاب حکومت کی کارکردگی سے 43 فیصد لوگ مطمئن نظر آئے۔مجموعی کارکردگی کے لحاظ سے وزیراعلیٰ سندھ کے حوالے سو سے سب سے زیادہ 16 فیصد عوام نے مطمئن ہونے کی رائے دی۔وزیراعلی پنجاب کی کارکردگی سے 13 فیصد، وزیراعلی خیبرپختونخوا سے 10 فیصد اور وزیراعلی بلوچستان کی کارکردگی سے محض دو فیصد عوام مطمئن نظر آئے۔

اکثریت نے پنجاب کے پچھلے وزیراعلی کی کارکردگی کو موجودہ وزیراعلی سے بہتر قرار دیا۔پچھلی پنجاب حکومت سے مطمئن افراد کا تناسب 45 فیصد تھا جب کہ موجودہ پنجاب حکومت سے مطمئن افراد کا تناسب کم ہو کر31 فیصد ہو گیا ہے۔پاکستان کی سطح پر بھی شہباز شریف سے مطمئن افراد کا تناسب 34 فیصد اور موجودہ وزیراعلی پنجاب سے 26 فیصد افراد مطمئن ہیں۔

اس سوال پر کہ موجودہ پی ٹی آئی حکومت نے کون سے بہترین اقدامات کیے، 17 فیصد نے کرپشن کے خلاف کارروائی، 11 فیصد نے ڈیم کی تعمیر، 10 فیصد نے انسداد تجاوزات آپریشن، 6 فیصد نے پالیسی اصلاحات اور تین فیصد نے شیلٹر ہوم پروجیکٹ کو بہترین اقدام قرار دیا۔موجودہ حکومت کو کون سے پانچ بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، 22 فیصد نے مہنگائی میں کنٹرول، 9 فیصد نے غربت کا خاتمہ، 9 فیصد بیروزگاری پر قابو پانے، 7 فیصد نے کرپشن پر قابو اور 5 فیصد نے آئی ایم ایف کے قرض سے نمٹنے کو سب سے بڑا چیلنج قرار دیا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…