ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ایک غیر معمولی ،کھلے ذہن والے اور صاف گو انسان ہیں ،طاہر داوڑ کا قتل اندوہناک سانحہ ہے ،افغان سفیر ڈاکٹر عمر زاخیلوال کا انٹرویو ،حیرت انگیزانکشافات

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی) پاکستان میں افغانستان کے سفیر ڈاکٹر عمر زاخیلوال نے کہا ہے کہ میں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایک غیر معمولی انسان کے طور پر پایا ، میں نے بات چیت کے دوران ان کو کھلے ذہن والا اور صاف گو انسان پایا ، انہوں نے ہر بات بڑے توجہ سے سنی ، میری ان سے بہت سی ملاقاتیں ہوئی ہیں ، میرے ان کے ساتھ ذاتی مراسم بھی بن چکے ہیں ، وہ بہت دل موہ لینے والے انسان ہیں ،

مجھے سوشل میڈیا کے ذریعے سے معلوم ہوا کہ پولیس آفیسر طاہر داوڑ کی لاش چند سو میٹر افغان علاقے کے اندر سے ملی ہے،اس سے قبل مجھے طاہر داوڑ کے بارے میں علم تھا نہ ہی افغان حکومت کو کوئی معلومات تھیں ، مجھے پتہ چلاتو میں نے اس معاملے میں دلچسپی لی پھر کابل اور جلال آباد رابطہ کیا ، جلال آباد نے لاش کی تصدیق کی تھی کیونکہ کابل حکومت اس معاملے کے بارے میں مکمل آگاہ نہیں تھی ۔ وہ ہفتہ کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔ افغان سفیر نے کہا کہ آرمی چیف پاکستان کے لئے بہت کام کر رہے ہیں ۔ وہ یہ سب کچھ ہمدردی کے طور پر نہیں بلکہ پاکستان کے مفاد میں کر رہے ہیں ۔ میں نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو فوج کے سپہ سالار اور بطور آرمی چیف سمجھنے کی کوشش کی ۔ میں نے ان کو یکم اکتوبر 2017 کو کابل کے دورے کی دعوت دی تھی جو انہوں نے قبول کی تھی ۔ طاہرداوڑ کے قتل سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ان حالات میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات شکوک وشبہات اور ہر عمل کے ردعمل میں کئی تاثرات پیدا ہوئے اور کئی حوالوں سے غم و غصہ پایا گیا ۔ طاہر داوڑ سانحے کی لینڈ لنک کو کئی حوالوں سے مزید بہتر کیا جا سکتا ہے ۔ مجھے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے سے معلوم ہوا کہ پولیس آفیسر طاہر داوڑ کی لاش چند سو میٹر افغان علاقے کے اندر سے ملی ہے ۔ مجھے طاہر داوڑ کے بارے میں علم تھا نہ ہی افغان حکومت کو کوئی معلومات تھیں ۔

انہوں نے کہا کہ مجھے پتہ چلاتو میں نے اس معاملے میں دلچسپی لی پھر کابل اور جلال آباد رابطہ کیا ۔ جلال آباد نے لاش کی تصدیق کی تھی کہ کابل حکومت اس معاملے کے بارے میں مکمل آگاہ نہیں تھی ۔ لاش مسخ شدہ اور بری حالت میں تھی اسے غسل دیا گیا اور کفن دفن کا بندوبست بھی کیا گیا ۔ سوشل میڈیا پر لوگوں کے منفی ردعمل سے ا سے نہیں دیکھنا چاہیے یہ ایک اندوہناک سانحہ ہے تاہم ایسے واقعات سے دونوں ممالک کو قریب آنا چاہیے ۔ ڈاکٹر عمر زاخیلوال نے کہا ہے کہ میں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ایک غیر معمولی انسان کے طور پر پایا ، میں نے بات چیت کے دوران ان کو کھلے ذہن والا اور صاف گو انسان پایا ، انہوں نے ہر بات بڑے توجہ سے سنی ، میری ان سے بہت سی ملاقاتیں ہوئی ہیں ، میرے ان کے ساتھ ذاتی مراسم بھی بن چکے ہیں ، وہ بہت دل موہ لینے والے انسان ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…