ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

آسیہ مسیح سے متعلق حکومت کا دعویٰ کیادرست ہے؟کیسے مان لوں کہ اسرائیلی طیارہ پاکستان نہیں آیا۔۔افغانستان میں قتل ہونیوالے طاہر داوڑ سے متعلق کونسا حکومتی وزیر جھوٹ بولتا رہا؟سلیم صافی حقائق سامنے لے آئے

datetime 17  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی ، تجزیہ کار و کالم نگار سلیم صافی اپنے کالم میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ایس پی طاہر داوڑ کے اغوا کے چند روز بعد وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی اور ترجمان افتخار درانی نے دعویٰ کیا کہ طاہر داوڑ کے اغوا کی خبر میڈیا نے غلط طور پر پھیلائی ہے۔ وہ دو تین دن کے لئے چھٹی پر گئے تھے اور اب

واپس پشاور پہنچ گئے ہیں۔ وائس آف امریکہ کی اینکر نے ان کے دعوے پر حیرت کا اظہار کیا لیکن درانی صاحب نے دعویٰ کیا کہ باخبر ترین حکومتی عہدیدار اور پختون ہونے کے ناتے ان سے زیادہ قوی بات کسی اور کی نہیں ہو سکتی۔ ان کے اغوا کے دنوں میں وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے ملک بھر کے دورے بھی کئے، ٹی وی کو لمبے لمبے انٹرویوز بھی دئیے، تھانوں پر چھاپوں کے تماشے بھی کئے اور اپنے خیالات عالیہ سے الجزیرہ ٹی وی کے ذریعے دنیا کو باخبر کرنے کے لئے قطر کے دورے پر بھی گئے لیکن وقت نہیں نکال سکے تو بس طاہر داوڑ کی بازیابی کی خاطر کوشش کے لئے یا ان کے اہل خانہ کے پاس جانے کے لئے۔ بالآخر وہی ہوا جس کا خطرہ تھا۔ 13نومبر یعنی کے اغوا کے اٹھارہ دن بعد طاہر داوڑ کی میت کی تصویروں کے ساتھ یہ خبر آئی کہ پشاور کے باسیوں کی زندگیوں اور عزتوں کے تحفظ کی ڈیوٹی پر مامور طاہر داوڑ مردہ حالت میں افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں پائے گئے ہیں۔ اگلے دن جب وزیر مملکت برائے داخلہ سے میڈیا والوں نے سوال کیا تو انہیں تب بھی حقیقت حال کا پتا نہیں تھا اور فوٹو شاپ کی ٹیکنالوجی کا ذکر کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ابھی کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا اور چونکہ یہ حساس معاملہ ہے اس لئے وہ اس پر سردست بات نہیں کر سکتے۔ اگلے دن وہ سینیٹ میں آئے اور پھر بلند آواز میں بلند دعوئوں کے

ساتھ خطاب کرتے ہوئے کہنے لگے کہ بالآخر وزیراعظم حرکت میں آ گئے ہیں اور تحقیقات کے لئے ان کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اب کمیٹیوں کے قیام کا کیا فائدہ؟ بے حسی کا اس سے بڑا نمونہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ خیبر پختونخوا کی مبینہ مثالی پولیس کے ایک ایس پی، نئے پاکستان کے دارالحکومت سے اغوا ہوئے اور آج اٹھارہ دن بعدان کے معاملے کی

تحقیقات کے لئے کمیٹی بنا ئی گئی ہے۔سلیم صافی مزید ایک جگہ لکھتے ہیں کہ بڑا سوال یہ ہے کہ اس کے بعد ہم جیسے عام شہری اپنی عزت اور جان کے تحفظ کے لئے اس ریاست پر اعتماد کریں تو کیسے کریں؟ وزیراعظم کے ترجمان اور معاون خصوصی افتخار درانی نے جس بے دردی کے ساتھ مغوی پولیس آفیسر کے بارے میں بین الاقوامی نشریاتی ادارے میں بیٹھ کر سفید جھوٹ بولا کہ

وہ تو پشاور میں اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے ہیں پھر اس حکومت کے کسی اور دعوے پر کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے؟ وزیراعظم کے ترجمان کی اس بے حسی اور ڈھٹائی کے بعد اب ہم کیسے یقین کر سکتے ہیں کہ آسیہ بی بی سے متعلق اس حکومت کا دعویٰ درست ہے۔ اب میں کیسے مان لوں کہ اسرائیل کا جہاز پاکستان نہیں آیا۔ یہ حکومتی ترجمان اگر مغوی طاہر داوڑ کے بارے میں میڈیا پر یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ وہ پشاور میں اپنے گھرمیں بیٹھے ہیں تو پھر نجانے ان معاملات پر کس قدر جھوٹ بول رہے ہوں گے جن کی ہم تصدیق نہیں کر سکتے۔ سوال یہ ہے کہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے یا پھر شہر ناپرساں؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…