جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

آسیہ کیس کا فیصلہ شرعی تقاضوں کے سراسر منافی ہے،یہ کام ہرگز نہیں ہونے دیں گے،معروف عالم دین نے بڑا اعلان کردیا

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

فیصل آباد(آن لائن )سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ عمران خان کروڑوں عاشقان رسول کو چھوٹا سا گروہ کہنے پر معافی مانگیں۔ وزیراعظم عمران خان متکبرانہ لہجہ تبدیل کریں۔ آسیہ کیس کا فیصلہ شرعی تقاضوں کے سراسر منافی ہے۔ عشق رسول کا شعلہ مسلمانوں کے قلب میں حرارت ایمانی کو ٹھنڈا نہیں ہونے دیتا۔ حکومت گرفتار کارکنان کو رہا کرنے کا وعدہ پورا کرے۔

موجودہ حکمران بھی پرانے حکمرانوں کی روش پر چل پڑے ہیں۔ ملک کو سیکولر بنانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے ،بیرونی قوتیں پاکستان کے مذہبی معاملات میں مداخلت بند کریں۔ آسیہ کیس کے حوالے سے پاک فوج پر تنقید کا کوئی جواز نہیں۔ جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کرنے والوں کا اہل سنت سے کوئی تعلق نہیں۔ پرتشدد احتجاج عاشقان رسول کا شیوہ نہیں۔ ہم نے ہمیشہ انتہا پسندی کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ سیاسی و مذہبی قائدین متحد ہو کر ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازشیں ناکام بنائیں ، آسیہ کیس کی نظرثانی درخواست کی سماعت کے لئے فل بینچ تشکیل دیا جائے اور فل بینچ میں فیصلہ سنانے والے ججز کو شامل نہ کیا جائے۔ آسیہ مسیح کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے معاملے میں تاخیری حربہ برداشت نہیں کریں گے۔ آسیہ مسیح کو بیرون ملک فرار کرایا گیا تو حکومت قائم نہیں رہ سکے گی۔ صوفیا کے ماننے والوں کو تشدد کے راستے پر ڈالنے کی سازشیں ناکام بنائیں گے۔مولانا سمیع الحق کا قتل ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازش ہے۔ قوم کے لئے حب عمران نہیں حب رسول زیادہ اہم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ رضویہ میں ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صاحبزادہ حامد رضا نے مزید کہا کہ وزیراعظم کی دھمکی آمیز تقریر نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ تحفظ ناموس رسالت کے لئے جدوجہد کرنا شدت پسندی نہیں عشق رسول کا اظہار ہے۔ ناموس رسالت کے تحفظ کے معاملے میں کسی مصلحت کا شکار نہیں ہو سکتے۔ عشق رسول مسلمانوں کا قیمتی ترین اثاثہ ہے۔ صاحبزادہ حامد رضا نے مزید کہا کہ عالمی طاقتیں پاکستان کے حالات خراب کرنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ ملک کو اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے۔ آصف علی زرداری نے حکومت کو تعاون کی پیشکش کر کے بڑے پن کا ثبوت دیا ہے۔ حکومت اپوزیشن کے تعاون کے بغیر ملک کو بحران سے نہیں نکال سکتی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…