جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

حملہ آوروں کا مولانا سمیع الحق سے قریبی تعلق تھا ،مولانا کے صاحبزادے سمیت دیگر افرادکی لاپرواہی نے بھی بڑے سوال کھڑے کردیئے، افسوسناک انکشافات

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

راولپنڈی (آن لائن)پولیس کے مطابق پاکستان کی ایک بڑی مذہبی شخصیت کاگھر میں اکیلے قتل ہو جانااور گھر کے باہر کوئی سکیورٹی گارڈنہ ہونا انتہائی معنی خیزہے پولیس ذرائع اس بات کی جانب بھی اشارہ کر رہے ہیں کہ حملہ آوروں کا مولانا سمیع الحق سے قریبی تعلق تھا جس سے وہ انتہائی آسانی سے مولانا سمیع الحق کے گھر کے اندر پہنچ گئے جن کے بارے میں یہ بھی خہا جاتا ہے کہ وہ پہلے بھی مولانا سے ملنے آتے تھے

حالانکہ روائتی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں آتشیں اسلحے کا استعمال کیا جاتا ہے لیکن مولانا سمیع الحق پر چھریوں سے وار کئے گئے اس پہلو کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ حملہ آور چھریوں کے ہمراہ مولانا سمیع الحق کے گھر داخل ہوئے یا چھری بھی اسی گھر کی استعمال گئی وقوعہ کے بعد مولانا سمیع الحق کے صاحبزادے مولانا حامد الحق کا موقف تھاکہ افغان حکومت اور مختلف طاقتوں کی جانب سے والد کو خطرہ تھا کیونکہ مولانا سمیع الحق امریکہ کے تسلط سے افغانستان کو آزاد کرانا چاہتے تھے حامد الحق کا یہ بھی کہنا تھاکہ انہوں نے پولیس اور سکیورٹی اداروں کو دہمکیوں کے حوالے سے آگاہ کر دیا تھا جبکہ دارلعلوم اکوڑہ خٹک میں بھی سکیورٹی انتہائی سخت کر دی تھی لیکن مولانا سمیع الحق ذاتی طور پر سکیورٹی پسند نہیں کرتے تھے اور سفر میں بھی رفقا کار ساتھ ہوتے تھے جس سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر مولانا سمیع الحق کی زندگی کو خطرات لاحق تھے تو ان کے ساتھ مناسب اور ذاتی سکیورٹی کیوں نہ تھی اور ان کی صاحبزادے سمیت فیملی کے دیگر افراد نے ان کی سکیورٹی پر خاطر خواہ توجہ کیوں نہ دی اور اگر انہوں نے پولیس کو اس حوالے سے آگاہ کر رکھا تھا تو انتظامیہ سطح پر بھی اس جانب توجہ کیوں نہ دی گئی مولانا سمیع الحق کے سفاکانہ قتل کے بعد عمومی تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ ملک کی اتنی بڑی مذہبی شخصیت کا قتل اتنی خاموشی سے کیسے ممکن ہوا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…