پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

فضل الرحمان کی بغاوت، دھماکہ خیز اعلان، بھٹو پھانسی، نواز شریف کی نااہلی تم لوگوں نے قبول نہیں کی تو پھر آسیہ بی بی کی رہائی کا فیصلہ کیسے مان لیا؟ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کو آئینہ دکھا دیا

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)مولانا فضل الرحمان نے پشاور میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے عقائد اور آزادی پر سودا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں، تم نے یورپ کے دباؤ میں فیصلہ کیا ہے، تم سب ایک پیج پر تھے، امریکہ اور مغربی دنیا کی رضا مندی حاصل کرنے کے لیے تم سب اس کے سامنے جھک گئے ہو، لیکن میں آج آپ کے سامنے اپنے کچھ دوستوں کو بھی مخاطب کرنا چاہتا ہوں،

آج جب قوم ایک صف پر ہے اور میدان عمل میں ہے ایسے وقت میں ہمارے کچھ دوست کہتے ہیں کہ عدالت کا فیصلہ ہے اس پر عمل ہونا چاہیے، میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کا فیصلہ اسی سپریم کورٹ نے کیا تو کیا پیپلز پارٹی نے اس فیصلے کو قبول کیا اور اسی سپریم کورٹ نے جب میاں نواز شریف کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ دیا، کیا مسلم لیگ (ن) نے اس فیصلے کو قبول کیا؟ آپ کی قیادت کے خلاف ہونے والے سپریم کورٹ کے فیصلے آپ کے لیے قابل قبول نہیں ہیں توپھر میں کیسے قبول کر لوں،واضح رہے کہ جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ تحفظ ناموس رسالت کے لئے سروں پر کفن باندھ کر نکلے ہیں، دس سال سے پکار رہا ہوں کہ مغربی ایجنڈا لاگو کیا جارہا ہے جس سفر کا آغاز کیا ہے یہ اب رکے گا نہیں۔ ذوالفقار بھٹو کے خلاف اور ن لیگ کے خلاف فیصلوں کو قبول نہیں کیا گیا تھا،پی ٹی آئی نے خود ملک بند کرنے کے اعلانات کیے تھے، حکمران ملک کو سیکولر اسٹیٹ بنانا چاہتے ہیں۔پشاورمیں احتجاجی جلسے سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ عمران خان دھمکیاں نہ دیں،میں جنرل نیازی کے خاندان میں پیدا نہیں ہوا،فیصلہ بہادری کی بنیاد پر نہیں بزدلی کی بنیاد اورمغربی دباو میں کیا گیا،ان کا کہنا تھا کہ قوم سے تصادم فائدہ میں نہیں ہوگا، تحفظ ناموس رسالت کے لئے سروں پر کفن باندھ کر نکلے ہیں، دس سال سے پکار رہا ہوں کہ مغربی ایجنڈا لاگو کیا جارہا ہے جس سفر کا آغاز کیا ہے یہ اب رکے گا نہیں، احتجاجی جلسے میں مختلف مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی،اس دوران جی ٹی روڈ کو فردوس چوک کے مقام پر ٹریفک کے لیے بند کیا گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…