جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

آسیہ بی بی کیس کا فیصلہ عدالتی نہیں ، حکومتی فیصلہ ہے، حکومت نے یہ فیصلہ کس کے دباؤ پر کیا ہے؟ سراج الحق کے حیران کن انکشافات

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2018 |

لاہور (آن لائن) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے منصورہ میں منعقدہ وسطی پنجاب کے نو منتخب امیر ، امیر العظیم اور ضلعی امراء کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ ہم توہین رسالت کی مرتکب آسیہ کی رہائی کے فیصلے کو عدالتی فیصلہ ہی سمجھتے تھے مگر وزیراعظم کے پر جوش خطاب اور عوام کو ڈرانے دھمکانے سے پتہ چلا کہ عدالتی نہیں ،

حکومتی فیصلہ تھا ۔حکومت نے جس دباؤ کے تحت یہ فیصلہ کیاہے وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ ہمیں خود حکومت کی مجبوریوں کا احساس ہے مگر جس جوشیلے انداز میں وزیراعظم نے عوام کو وارننگ دی ہے ، وہ ناقابل برداشت ہے ۔ سپریم کورٹ کہتی ہے کہ ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے آسیہ کو سزائے موت کا فیصلہ دے کر غلطی کی ہے تو قوم کو بتایا جائے کہ کیا ہمارا عدالتی نظام اس قابل ہے کہ اس پر اعتماد کیا جاسکے ۔ان عدالتوں نے نہ جانے کتنے معصوم اور بے گناہ لوگوں کو پھانسی پر لٹکایا ہے اور کتنے قاتلوں اور مجرموں کو بے گناہ قرار دے دیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک کا عدالتی نظام بری طرح تباہ ہوچکاہے جہاں کسی غریب کو انصاف نہیں ملتا اور دباؤ کے تحت فیصلے کیے جاتے ہیں ۔ سینیٹر سراج الحق نے عوام سے اپیل کی ہے کہ جمعہ کو ملک بھر میں اس فیصلہ کے خلاف پرامن احتجاج کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ آج پوری قوم کرب اور صدمے سے دوچار اور ایک امتحا ن سے گزر رہی ہے ۔ ملک بھر کے گلی کوچوں میں عوام سراپا احتجاج ہیں مگر سپریم کورٹ نے میڈیا پر احتجا ج کو دکھانے پر پابندی لگا رکھی ہے ۔ کلمہ کے نام پر حاصل کیے گئے ملک میں فحاشی و عریانی دکھانے کی کھلی چھٹی اور ناموس رسالت کے پروگراموں کو نشر کرنے پر پابندی ہے جس سے افواہیں جنم لے رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلبہ کی تحریک ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک و قوم کے تمام مسائل کا حل شریعت کے نفاذ میں ہے ۔

اللہ تعالیٰ کا نظام ہر شک اور عیب سے پاک ہے ۔ انہوں نے کہاکہ انسانیت کی ترقی و خوشحالی کے دعوے دار تمام ازم ایک ایک کر کے اپنی موت مرچکے ہیں۔ قبل ازیں امیر العظیم نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی کا یہ امتیاز ہے کہ اس کو بنانے والوں نے جماعت کی تشکیل سے پہلے اس کا دستور بنایا ۔ جماعت اسلامی میں کسی کو عہدوں اور مناصب کا لالچ نہیں ہوتا ، جسے امیر منتخب کر لیا جاتاہے اس کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری ڈال دی جاتی ہے

اور وہ خود کو عوام ، ارکان جماعت اور اللہ کے سامنے جوابدہ سمجھتاہے ۔ تقریب سے سابق امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر ذکر اللہ مجاہد اور وسطی پنجاب کے دیگر امرائے اضلاع نے اپنی ذمہ داریوں کا حلف لیا ۔ حلف برداری تقریب میں سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ ، نائب امرا حافظ محمد ادریس ، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ، ڈپٹی سیکرٹری جنر ل محمد اصغر ، نائب امیر وسطی پنجاب مولانا جاوید قصوری ، صوبائی سیکرٹری جنرل بلال قدرت بٹ اور سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی پاکستان قیصر شریف نے بھی تقریب میں شرکت کی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…