جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

وزیر اعظم کے پاس آئی جی کوبدلنے کا اختیار ہے اور وہ بدلیں گے ،آئی جی اسلام آباد کی تبدیلی سے متعلق حکومت نے سخت موقف اختیارکرلیا، دوٹوک اعلان

datetime 29  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے کہاہے کہ سعودی عرب کیلئے شریف خاندان کی کوئی اہمیت نہیں رہی ، احتساب کا عمل منطقی نتیجے تک پہنچایا جائیگا ،کسی بیورو کر یٹ کو منتخب نمائندے کا فون نہ سننے کا اختیار نہیں ، سعودی پیکج کے بعد مزید دوبڑے پیکجز آرہے ہیں،اپوزیشن کی تمام حکمت عملی این آر او لینے کیلئے ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ این آر او جب بھی ہوا اس وقت کیا ہو تارہا؟ شریف برادران پہلے بھی این آر او کرکے چلے گئے تھے لیکن یہ مانتے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت جو آل پارٹیز کانفرنس ہورہی ہے تو اس کودیکھتے ہوئے بتایا جائے کہ آصف زرداری ، نواز شریف اور فضل الرحمان کاآپس میں کیا نظریہ ہے ، یہ اس لئے اکٹھے ہورہے ہیں کہ ان کے ساتھ کوئی این آر او ہوجائے ، ان کا مقصد ہی این آر او کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف خاندان کواب سعودی عرب میں اہمیت نہیں رہی اور نہ ہی سعودی حکومت پر نواز شریف اور زرداری کا کوئی اثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی تمام تر حکمت عملی اورحکومت پردباؤ این آراو لینے کی کوشش ہے لیکن عمران خان کسی کواین آر او نہیں دیں گے ، وہ حکومت چھوڑ دیں گے لیکن بلیک میل نہیں ہونگے ، احتساب کا عمل منطقی انجام تک پہنچے گا۔آئی جی اسلام آباد کے حوالے سے سوال پر فواد چودھری نے کہاہے کہا آئی جی اسلام آباد کے تبادلے کا اعظم سواتی کے واقعہ سے کوئی تعلق نہیں تھا ، ان کوتبدیل کرنے کے حوالے سے اقدامات ایک ہفتہ قبل شروع ہوچکے تھے ،وزیر اعظم کے پاس آئی جی کوبدلنے کا اختیار ہے اور وہ بدلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایس پی اور ڈی سی کویہ اختیار نہیں ہے کہ وہ کسی عوامی نمائندے کا فون نہ سنے ،اگر یہ نہیں ہونا تو پھر الیکشن کرانے کی ضروت ہی کیاہے ؟

ویسے ہی یہاں اشرافیہ کی حکومت قائم کردیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جس معاشی بحران کا شکار ہے اس کی ذمہ دار نوازشریف کی حکومت ہے ، ہم ایک شفاف حکومت دینا چاہتے اور اسی پالیسی پر ہماری تمام وزارتیں آگے بڑھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی پیکج کے بعد آگے مزید دو بڑے پیکجز آرہے ہیں جن سے معیشت کوبہتر کرنے میں مدد ملے گی ، ہماری نوازشریف کے ساتھ کوئی ذاتی لڑائی نہیں ہے بلکہ ہم پاکستان کے خزانے کے ساتھ جوکھلواڑ کیاگیاہے اس کا جواب چاہتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…