جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم خالدہ ضیا کو ایک اور مقدمے میں7 سال قید کی سزا

datetime 29  اکتوبر‬‮  2018 |

ڈھاکہ(این این آئی) بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کو اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے عطیات کی رقم جمع کرنے میں ملوث پانے پر ایک اور مقدمے میں 7 سال کی قید کی سزا سنادی۔امریکی خبررساں ادارے کے مطابق ان کے حامیوں کا کہنا تھا۔

خالدہ ضیا اور ان کی جماعت کے خلاف ان اقدامات کا مقصد دسمبر میں ہونے والے انتخابات سے قبل اپوزیشن کو کمزور کرنا ہے تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف الزامات ثابت ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ 73 سالہ خالدہ ضیا پہلے ہی بدعنوانی کے ایک مقدمے میں 5 سال کی سزا کاٹ رہی ہیں جنہیں رواں ماہ کے آغاز میں صحت کی خرابی کے باعث ہسپتال بھی منتقل کیا گیا تھا تاہم ان کی جماعت نے دونوں الزامات کو سیاسی الزامات قرار دیا ہے۔خیال رہے کہ خالدہ ضیا کے شوہر ضیاالرحمٰن سابق ملٹری چیف اور بنگلہ دیش کے صدر بھی رہ چکے تھے جنہیں 1981 میں قتل کردیا گیا تھا۔عدالت کے مطابق خالدہ ضیا نے 2001 سے 2006 کے اپنے دورِ حکومت کے دوران اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اپنے شوہر کے نام پر قائم فنڈ میں نامعلوم ذرائع سے 3 لاکھ 75 ہزار ڈالر کی رقم وصول کی، جس پر عدالت نے ان کے سابق سیاسی سیکریٹری سمیت دیگر 3 افراد کو 7، 7 سال کی سزا سنائی۔واضح رہے کہ خالدہ ضیا کے خلاف عدالتوں میں بدعنوانی، تشدد کے الزام میں 30 سے زائد مقدمات درج ہیں جس کے بارے میں ان کی جماعت کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات ان کی سیاسی حریف حسینہ واجد کے حکومت میں رہنے کے باعث قائم کیے گئے جو مسلسل تیسری مدت کے لیے اقتدار میں موجود ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…