جمعہ‬‮ ، 19 جون‬‮ 2026 

سوئس بینکوں میں پڑے 2سو ارب ڈالر کے بدلے وہاں کی حکومت پاکستان سے کونسا معاہدہ کرنا چاہتی تھی جسے نواز دور کے کس اہم افسر نےمسترد کر دیا جو آج کپتان کی حکومت میں اہم عہدے پر فائز ہے؟حیران کن انکشاف

datetime 29  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ملک کے معروف صحافی ارشاد بھٹی اپنے کالم میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ کیا کیا بتایا جائے، نواز دور، چیئرمین ایف بی آر طارق باجوہ نے ایک سمری کابینہ کو بھجوائی کہ میرے مصدقہ ذرائع کے مطابق ہمارے 2سو ارب ڈالر سوئس بینکوں میں پڑے ہوئے، اسحاق ڈار نے یہ بات اسمبلی میں کر دی، ملک میں بھونچال آگیا، وفاقی کابینہ نے منظوری دی کہ

جاؤ سوئس حکام سے بات کرو، اشفاق احمد خان کی سربراہی میں 3رکنی وفد بنا، یہ جنیوا پہنچا، مذاکرات ہوئے، سوئس حکام نے رضا مندی ظاہر کردی کہ وہ پاکستان کے ساتھ معاہدہ کرنے کو تیار، مطلب تمام پاکستانیوں کے نام، بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات دیں گے، معاہدے کے بدلے سوئس حکام نے کہا کہ ہمیں موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ دیدیں اور جو سوئس کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہیں انکے منافع پر 10کے بجائے 5فیصد ٹیکس لگا دیا جائے، تب سوئس کمپنیوں کی پاکستان میں سرمایہ کاری دو، ڈھائی ملین ڈالر تھی، مطلب ایک ڈیڑھ لاکھ ڈالر ٹیکس رعایت دینا تھی، بدلے میں سوئس حکومت نے ہمیں 2سو ارب ڈالر کی معلومات دینا تھیں، وفد خوشی خوشی واپس آیا، مگر حیرت انگیز طور پر طارق باجوہ نے نہ صرف ٹیکس رعایت کو بنیاد بنا کر فرمادیا کہ یہ معاہدہ منظور نہیں بلکہ چند دنوں بعد الٹا وفد کے تینوں اراکین کو شوکاز نوٹسز دیکر کھڈے لائن لگا دیا۔ آگے سنئے:نواز حکومت کے ایف بی آر چیئرمین طارق باجوہ جو آج گورنر اسٹیٹ بینک، اب اسد عمر سے کہہ چکے کہ ’’کوئی 2سو ارب ڈالر نہیں پڑے ہوئے سوئٹزر لینڈ میں، بس اس وقت مجھ سے غلطی ہو گئی تھی، اندازہ لگائیں چیئرمین ایف بی آر ایک حکومت سے کہے کہ ہمارے 2سو ارب ڈالر پڑے ہوئے سوئٹزر لینڈ میں، دوسری حکومت سے کہہ دے ’’غلطی ہو گئی، وہاں پیسے نہیں پڑے ہوئے‘‘ اور موصوف کل بھی مزے میں، آج بھی موجیں کر رہے، کیا قسمت پائی طارق باجوہ نے، پچھلی حکومت خوش، موجودہ حکومت خوش اور وہ کرپٹ مافیا جنہوں نے وہاں پیسے رکھے ہوئے وہ بھی خوش، ہے نا فلمی بلکہ ویری فلمی کہانی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…