اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

ہاضمے کی خرابی کی صورت میں بھی بار بار پیاس محسوس ہوتی ہے

datetime 17  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ پیاس جسم میں پانی کی کمی کا دماغ سے نشر ہونے والا ایک سگنل ہوتا ہے اور اس سگنل کا جواب پانی کے ایک گلاس سے دینا چاہئے۔ حقیقت اس عام مفروضے سے مختلف ہے اور ماہرین نے تازہ ترین تحقیق سے جانا ہے کہ پیاس لگنے کے علاوہ بھی جسم ، پانی کی کمی کی صورت میں مختلف قسم کے سگنلز نشر کرتا ہے جنہیں سمجھ کے جسم کو اس کمی سے بروقت محفوظ کیا جاسکتا ہے۔ پیاس بھی جسم میں پانی کی کمی کا ایک سگنل ہے مگر یہ ایک دھوکہ دینے والا سگنل ہے کیونکہ کبھی کبھار ہاضمے کی خرابی کی صورت میں بھی بار بار پیاس محسوس ہوتی ہے حالانکہ حقیقت میں جسم کو پانی کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔انسانی جسم کا ستر فیصد وزن پانی کی وجہ سے ہوتا ہے تاہم جسم کے کچھ اعضاءایسے ہوتے ہیں جن میں اس کی کمی بے حد ضروری ہے جیسا کہ دماغ اور پھیپھڑے۔ ان اعضاءکو پانی کی کمی سے بچانا بے حد ضروری ہے کیونکہ یہ دونوں ہی جسمانی نظام کو فعال رکھنے میں بنیادی ترین کردار ادا کرتے ہیں اور اگر ان حصوں میں پانی کی کمی ہوگی تو جسمانی افعال بھی متاثر ہوں گے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پانی پینے کے فوری بعد جسم یک دم تازہ دم ہوجاتا ہے اور غنودگی، کمزوری کا احساس رفوچکر ہوجاتا ہے۔ دراصل یہ کیفیت جسم میں پانی کی کمی کی وجہ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔
موسم گرما کی آمد آمد ہے اور اس موسم میں اے سی میں بیٹھنے والی عوام یہ تصور کرتی ہے کہ انہیں پانی کی ضرورت نہیں کیونکہ انہیں پسینہ نہیں آرہا ہے حالانکہ جسم میں پانی کی ضرورت کا تعلق محض خارج ہونے والی پانی سے نہیں ہے۔ یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ جس طرح پتیلی میں گرم کئے جانے پر پانی بخارات میں تبدیل ہوجاتا ہے، اسی طرح جسم میں جانے والا پانی بھی پسینے اور پیشاب کے راستے سو فیصد خارج نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ دیگر افعال کو جاری رکھنے میں مدد گار اور غیر محسوس طریقے سے ختم ہوجاتا ہے، اس لئے اے سی میں بیٹھنے پر یہ سوچنا کہ پسینہ نہیں آرہا ہے اس لئے جسم میں پانی کی کمی بھی نہیں ہورہی ، غلط ہے۔ یاد رکھیں کہ انسانی جسم میں پانی کا بنیادی کردار جسم کو فاسد مواد سے پاک کرنا ہے اور یہ فعل اے سی، موسم سرما میں بھی جاری رہنا چاہئے۔ اس لئے یہ نہیں سوچیں کہ جب پیاس لگی تو پانی پی لیں گے بلکہ مناسب وقفے سے پانی کا استعمال جاری رکھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…