جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

پس پردہ طے ہونے والی حکمت عملی کے تحت بلوچستان کی سرزمین کو عالمی جنگ کی جانب دھکیلا جارہا ہے، نوابزادہ لشکری رئیسانی نے سنگین دعوے کردیئے

datetime 26  اکتوبر‬‮  2018 |

کوئٹہ ( آئی این پی )بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماء نوابزادہ حاجی میر لشکری خا ن رئیسانی نے کہا ہے کہ پس پردہ طے ہونے والی حکمت عملی کے تحت بلوچستان سے متعلق ہونے والے فیصلوں کے ذریعے بلوچستان کی سرزمین کو عالمی جنگ کی جانب دھکیلا جارہا ہے ۔وزیراعلیٰ بلوچستان اور چینی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقاتیں چین کی بلوچستان کے وسائل پر دسترس حاصل کرنے کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی غمازی کرتی ہے۔

بلوچ عوام کے مفادات سے متصادم فیصلوں کے خلاف سیاسی مذاحمت کرینگے ۔ گزشتہ روز سراوان ہاؤس میں سیاسی کارکنوں قبائلی عمائدین سمیت مختلف وفود سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے نوابزادہ لشکری رئیسانی کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان سے متعلق ہونے والے زیادہ تر فیصلوں میں بلوچستان کی حقیقی سیاسی قیادت کو نظر انداز کرنے کی پرانی حکمت عملی بروئے کار لائی جارہی ہے۔مذموم خواہشات کی تکمیل کیلئے پس پردہ طے ہونے والے فیصلے بلوچستان نیشنل پارٹی اور بلوچستان کے عوام کو کسی صورت قبول نہیں ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں عالمی قوتوں کی بڑھتی ہوئی غیر معمولی دلچسپی سے بلوچستان کی سرزمین پر عالمی قوتوں کے مفادات کے تحت ہونے والے تصادم کے خدشات کو تقویت مل رہی ہے ۔ نوابزادہ لشکری رئیسانی مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال اور چینی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقاتیں بلوچستان کے وسائل پر دسترس حاصل کرنے سے متعلق چین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی غمازی کرتی ہیں جس کے صوبے کے عوام کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں موجودہ صورتحال سیاسی کارکنوں کی سنجیدہ اور شعوری توجہ کی طالب ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں عالمی سرمایہ کاری کے نام پر آئین میں ایک نیا منظر نامہ تشکیل پاسکتا ہے جس کا گہرائی سے صوبے کی سیاسی قیادت اور کارکنوں کو تجزیہ کرنا چاہیے ۔اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ہم اپنی آئندہ نسلوں کیلئے کنگال بلوچستان چھوڑ کر جائیں گے ۔ بلوچستان کے ساحل وسائل کے دفاع کیلئے ہم پر بے رحم عالمی استحصالی قوتوں کی جدید سامراجیت کو سمجھنا لازم ہے ۔ بلوچستان کے قدرتی وسائل پر دسترس حاصل کرنے کیلئے عالمی قوتوں کی مذموم خواہشات کیا رخ اختیار کرسکتی ہیں اس پرتوجہ دیتے ہوئے موجودہ صورتحال کے تناظر میں صوبے کی سیاسی جماعتوں اور قیادت کے درمیان باہمی تعاون اور افہام وتفہیم درکار ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…