جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

 25 جولائی 2018 کے انتخابات کس قدر شفاف تھے؟یورپی یونین مبصر مشن کی تفصیلی رپورٹ جاری کردی گئی،حیرت انگیز انکشافات

datetime 26  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی) یورپی یورنین الیکشن مبصر مشن کے سربراہ مائیکل گیہلر نے کہا ہے کہ ماضی کے برعکس اس مرتبہ مشن کے مبصرین کو بہت سے رکاوٹوں کا سامنا رہا،پاکستان کے بہت سے علاقوں میں مشن انتخابی عمل کا جائزہ لینے میں ناکام رہا،الیکشن کمیشن آف پاکستان عوام اور سیاسی جماعتوں کو بروقت نتائج فراہم کرنے میں ناکام رہا،پولینگ اسٹیشنز کے اندر آرمی اہلکاروں کی موجودگی کی وجہ سے ووٹربیک وقت تحفظ محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ عدم تحفظ کا شکار بھی رہے،

انتخابات مکمل سیاسی عمل ہے اس سے آرمی کا زیادہ تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ جمعہ کو اسلام آبا د کے مقامی ہوٹل میں25 جولائی 2018 کے انتخابات سے متعلق یورپی یونین مبصر مشن کی تفصیلی جاری کر دی گئی۔ اس موقع پر مشن کے سربراہ مائیکل گیہلر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انتخابی فہرستوں میں کئی نقائص دیکھے،الیکشن کمیشن نتائج بروقت جاری کرنے میں ناکام ریا،مشن نے عام انتخابات سے صدارتی انتخاب تک الیکشن عمل کا جائزہ لیا.،مشن نے انتخابی عمل کا بغور جائزہ لیا اور تجاویز مرتب کیں،انتخابی عمل میں بہتری کی گنجائش ہر وقت ہوتی ہے،2013 کے بعد ہونے والی انتخابی اصلاحات میں یورپی یونین کی 55 میں سے 38 تجاویز کو مانا گیا۔مشن سربراہ نے کہا کہ آرمی کی تعیناتی کے باعث انتخابات کی سویلین اونر شپ کم ہے، پولنگ کے بعد پولنگ ایجنٹس کو باہر نکالنے سے متعلق کوئی رپورٹ نہیں ملی،آر ٹی ایس سمیت دیگر جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال خوش آئند ہے،ٹیکنالوجی پر اکتفا کرنے کیلئے جامع منصوبہ بندی ضروری ہے، انتخابات میں آرٹی ایس کے استعمال سے پہلے اچھی طرح ٹیسٹ کرنا چاہیے تھا،الیکشن کمیشن کو سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے چاہئیں۔ مائیکل گیہلر نے کہا کہ انتخابات کے دوران مشکلات کا سامنا رہا،تمام جماعتوں اور امیدواروں کو یکساں انتخابی مہم کے مواقع نہیں ملے،میڈیا اور غیرجانبدار اداروں کو پابندیوں کا سامنا رہا،انتخابی نتائج اور پولنگ طریقہ کار پر بھی تحفظات سامنے آئے،

پولنگ اسٹیشنز کے اندر فوج تعینات نہیں ہونی چاہئے تھی،فوج کا کام سیکورٹی فراہم کرنا ہے،یورپی یونین عام انتخابات میں آر ٹی ایس کے استعمال پر مطمئن نہیں.،ضمنی انتخاب میں آر ٹی ایس کی آزمائش کی جاتی تو بہتر تھا۔مشن نے آٹھ ترجیحی سفارشات دیں جس میں کہا گیاکہ آئین اور لیکشن ایکٹ کا جائزہ لیا جائے تاکہ انتخابات میں حصہ لینے پر لگنے والی پابندیاں ، مبہم، اخلاقی اور من مانے معیار کے تابع نہ ہوں،

الیکشن ایکٹ ،الیکشن قواعد اور ضوابط اخلاق پر نظر ثانی کی جائے تاکہ ای سی پی کی شفافیت کیلئے ٹھوس طریقہ کار کو یقینی بنایا جاسکے، اس میں عوامی دلچسپی کی معلومات کیلئے مخصوص نظام الاوقات اور آن لائن اشاعت سمیت نشرواشاعت کا طریقہ کار شامل ہیں،الیکشن کمیشن پر عوام کا اعتماد بڑھانے کیلئے شفافیت کا سلسلہ عمل میں لائے، جس میں انتخابات کے شراکت داروں کے ساتھ باقاعدہ ملاقاقوں کو یقینی بنائیں،

سکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی کو پولنگ سٹیشنوں کے باہر تک محدود کر کے انتخابات کے سول انتظام کی ضمانت دی جائے،آن لائن مواد سمیت میڈیا کے قانونی فریم ورک کا جائزہ لیا جائے تاکہ آزادی اظہار کے بین الاقوامی معیار کے ساتھ مطابقت یقینی بنائی جا سکے،جنرل نشستوں کیلئے مقابلہ کرنے والی خواتین کی نمائندگی میں اضافے کیلئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں،رائے دہندگان کی ضمنی فہرست کی شرط کو ختم کر کے یکجا انتخابی فہرست اختیار کی جائے

تاکہ بین اقوامی معیار کے مطابق تمام شہریوں کا برابری کی سطح پر اندراج ہو سکے،قومی اور بین الاقوامی مشاہدہ کاروں کو قانون میں شامل کیا جائے تاکہ مشاہدہ کاروں اور میڈیا کی انتخابی عمل کے تمام مراحل تک رسائی کو یقینی بنایا جا سکیانہوں نے کہا کہ 2018کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے، ہمیں اس کمیٹی کی فائنل رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے ،الیکشن کمیشن انتخابی عمل میں شفافیت کیلئے اسٹیک ہولڈرز سے لگاتار رابطے میں رہے ،رپورٹ کی کاپی الیکشن کمیشن سمیت تمام اداروں کو بھیجی جارہی ہیں،حکومت اور متعلقہ اداروں کا کام ہے کہ وہ ہماری سفارشات کا جائزہ لے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…