جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ حل،امریکی جوڑے نے ہوا کے ذریعے پانی بنانے کا سستا ترین طریقہ ایجاد کر کے 15کروڑ روپے سے زائد کا انعام جیت لیا

datetime 25  اکتوبر‬‮  2018 |

واشنگٹن (آن لائن) امریکی جوڑا نے ہوا کے ذریعے پانی بنانے کا طریقہ ایجاد کر کے 15کروڑ روپے سے زائد کا انعام جیت لیا۔ڈیوڈ ہرٹز کو جب یہ خیال سوجھا تو انہوں نے تجرباتی بنیادوں پر اپنے دفتر کی چھت پر خود سے تیار کردہ آلہ نصب کیا اور ان کا تجربہ کامیاب ثابت ہوا جب انہیں اس کی بدولت تازہ پانی ملنا شروع ہو گیا۔

جلد ہی انہوں نے بیوی لورا ڈوس کے ساتھ مل کر کچھ بڑا کرنے کی ٹھانی اور اس حد تک کامیابی حاصل کی کہ انہیں رواں ہفتے پانی بڑی مقدار میں پیدا کرنے پر 15کروڑ روپے سے زائد کا انعام دیا گیا۔انہوں نے بحری جہازوں کے کنٹینر، لکڑی کے تختوں اور کچرے کے ڈبے کی نذر چند ناکارہ چیزوں کی مدد سے ایک دن میں 2ہزار لیٹر پانی کی پیداوار کی جو انہیں دو روپے فی لیٹر کا پڑا۔ایکس پرائز نامی مقابلے کا انعقاد چند تجارتی و صنعتی ماہرین کرتے ہیں جس کے تحت دنیا کو محفوظ اور بہتر بنانے کے لیے کام کرنے والوں کو اب تک 140ملین ڈالر کی انعامی رقم دی جا چکی ہے۔ہرٹز کو چند سال قبل پتہ چلا کہ جو کوئی بھی سستا پانی بنانے کا جدید طریقہ ایجاد کرے گا، اسے یہ انعام دیا جائے گا اور اسی کے بعد سے انہوں نے اس تجربے پر کام کرنا شروع کر دیا اور کامیابی نے ان کے قدم چومے۔ہرٹز کی تیار کردہ مشین(اسکائی واٹر300) اس وقت روزانہ کی بنیاد پر ساڑھے 500لیٹر سے زائد پانی پیدا کرتی ہے جسے وہ علاقے میں موجود بے گھر لوگوں میں بانٹ دیتے ہیں۔  امریکی جوڑا نے ہوا کے ذریعے پانی بنانے کا طریقہ ایجاد کر کے 15کروڑ روپے سے زائد کا انعام جیت لیا۔ڈیوڈ ہرٹز کو جب یہ خیال سوجھا تو انہوں نے تجرباتی بنیادوں پر اپنے دفتر کی چھت پر خود سے تیار کردہ آلہ نصب کیا اور ان کا تجربہ کامیاب ثابت ہوا جب انہیں اس کی بدولت تازہ پانی ملنا شروع ہو گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…