بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

148بیماریوں کا صرف ایک علاج، لاعلاج قرار دئیے گئے مریض بھی شفایاب،نہ کوئی سائیڈ ایفیکٹس، جانئے حیران کن طریقہ علاج

datetime 24  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک)عالمی ادارہ صحت نے آکو پنکچر کو148بیماریوںکے لیے شفاء بخش قرار دے دیا جبکہ 120ممالک میں آکو پنکچر طریقہ علاج کو باقاعدہ قانونی حیثیت حاصل ہے اور لاکھوں مریض شفاء یاب ہو چکے ہیں، اس طریقہ علاج کے تحت بچوں کی ذہنی معذوری گنٹھیا، کمر درد،عرق النسا،گردن کا درد اور اکڑائو، کندھے کاجام ہونا ،گھٹنوں کا درد، آدھے سر کا درد، لقوہ، فالج ،چہر ے

کا عصبی درد چہرے کے داغ دھبے ،الرجی اور سورائسس کا علاج بڑی کامیابی سے کیا جا رہا ہے،ایسے امراض جن کو ایلوپیتھی طریقہ علاج کے معالجین لا علاج قرار دیتے ہیں اور اپنے مریضو ں کو اپنی زندگی اسی طرح گزارنے کا کہتے ہیں آکو پنکچر طریقہ علاج کے تحت ہی ان کا علاج ممکن ہے اور اس کے کوئی سائیڈ ایفیکٹس بھی نہیں ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹرمحمد شفیق ،ڈاکٹر سید فیض الحسن،ڈاکٹر ایم ایس بابر،ڈاکٹر محمد افضل میو،ڈاکٹرعلی محمد بلال، ڈاکٹر محمد ابو بکراور ڈاکٹر انعم حاجرہ نے ورلڈآکوپنکچر ڈے کے موقع پر منعقدہ مجلس مذاکرہ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آکو پنکچر طریقہ علاج انتہائی سستا ہے ۔جو ہر آدمی با آسانی کروا سکتا ہے۔آکو پنکچر کے ذریعے 90فیصد مریض شفاء پاتے ہیں۔وہی مریض شفاء یاب نہیں ہوتے جو اپنے معالج کی بات نہیں مانتے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سینئر آکو پنکچرسٹ ڈاکٹرز ،حکماء اورہومیو ڈاکٹرز آکو پنکچرسٹ پر مشتمل نیشنل کونسل فار آکو پنکچر کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ پاکستان میں بھی آکو پنکچر آکو پنکچر طریقہ علاج انتہائی سستا ہے ۔جو ہر آدمی با آسانی کروا سکتا ہے۔آکو پنکچر کے ذریعے 90فیصد مریض شفاء پاتے ہیں۔وہی مریض شفاء یاب نہیں ہوتے جو اپنے معالج کی بات نہیں مانتے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سینئر آکو پنکچرسٹ ڈاکٹرز ،حکماء اورہومیو ڈاکٹرز آکو پنکچرسٹ پر مشتمل نیشنل کونسل فار آکو پنکچر کا قیام عمل میں لایا جائےطریقہ علاج فروغ پا سکے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…