جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو ولی عہد کے عہدے سے ہٹانے کی تیاریاں شروع، سعودی بیعت کونسل نے بڑا قدم اُٹھا لیا، نیا ولی عہد کون ہوگا؟ نام سامنے آ گیا

datetime 20  اکتوبر‬‮  2018 |

ریاض (نیوز ڈیسک) سعودی فرمانروا شاہ سلمان سعودی صحافی جمال خاشقجی کی ترکی میں واقع سعودی سفارتخانے میں ہلاکت کے بعد حرکت میں آ گئے ہیں، فرانسیسی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے ممکنہ نئے ولی عہد کا نام سامنے آ گیا ہے، اخبار کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو عہدے سے ہٹا کر خالد بن سلمان کو سعودی عرب کا نیا ولی عہد مقرر کیے جانے کا امکان ہے،

اس بارے میں سعودی بیعت کونسل نے غور شروع کر دیا ہے۔واضح رہے کہ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ شاہ سلمان نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے اپنے انتہائی قابل اعتماد ساتھی اور مکہ کے گورنر شہزادہ خالد الفیصل کو استنبول روانہ کیا اور کہا کہ وہ جا کر جمال خاشقجی کے معاملے پر پیدا ہونے والے بحران کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ شہزادہ خالد کے دورے کے دوران ترکی اور سعودی عرب میں جمال خاشقجی کے معاملے کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ بنانے پر اتفاق ہو گیا، اس کے بعد سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے ایک اور انتہائی اہم قدم اٹھاتے ہوئے سعودی پبلک پراسیکیوٹر کو حکم دیا کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کا آغاز کرے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کے حکومتی ذرائع نے بتایا کہ شہزادہ خالد شاہی خاندان کے سینئر فرد اور شاہ سلمان کے قریبی ساتھی ہیں اور شہزادہ خالد ان کے دست راست سمجھے جاتے ہیں اور ان کا ترکی کے صدر سے بھی بہت قریبی اور دوستانہ تعلق ہے، شاہ سلمان نے اسی وجہ سے ترکی بھیجنے کے لیے ان کا انتخاب کیا، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سب کا مطلب تو یہ ہے کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لے چکے ہیں کیونکہ ان کے بیٹے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے اس واقعے میں ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، رپورٹ کے مطابق بعض حلقوں کا اس بارے میں کہنا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی محمد بن سلمان پر کڑی تنقید کرتے تھے اس وجہ سے انہیں قتل کروایا گیا،

ترکی کی پولیس بھی کچھ اسی طرح کے الزام عائد کر چکی ہے۔ شاہی خاندان کے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ شاہ سلمان اس معاملے کی سنجیدہ نوعیت سے واقف نہیں تھے کیونکہ شہزادہ محمد بن سلمان کے قریبی لوگوں نے شاہ سلمان کی توجہ سعودی عرب کے ٹی وی چینلز پر چلنے والی خبروں پر مرکوز رکھی، ان خبروں میں صرف سعودی عرب کی ترقی سے حوالے بتایا جاتا تھا، لیکن جب معاملہ زیادہ بڑھا تو شہزادہ محمد بن سلمان اس کو چھپا نہ سکا اور آخر کار سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے سنگینی کو سمجھتے ہوئے معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…