پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

مجھے کچھ یاد نہیں۔۔قومی اسمبلی میں نیب پر گرجنے والے شہباز شریف کی تفتیش کے دوران کیا حالت ہو گئی؟سوالوں کے کیا جواب دیتے رہے؟

datetime 20  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(ا ٓئی این پی) آ شیا نہ ہا ئو سنگ اسکینڈل میں گر فتار قو می اسمبلی میں قا ئد حز ب اختلاف میا ں شہباز شر یف نے نیب کے سوا لات پر چپ سا دھ لی ہے، بہت سے سوا لو ں کا جواب دینے کے لیئے متعلقہ ریکا رڈ فرا ہم کر نے کی در خواست بھی دے دی۔تفصیلات کے مطابق شہباز شریف سے آشیانہ اقبال پراجیکٹ کا ٹھیکہ تبدیل کرنے سے متعلق سوالات کیے گئے مگر شہباز شریف

کوئی جواب نہ دے سکے۔ شہباز شریف، کامران کیانی کا نام لینے سے بھی کترا گئے۔ نیب کو کامران کیانی کی کمپنی کے بارے میں نہیں بتایا، نیب نے سابق وزیراعلی سے آشیانہ اقبال پراجیکٹ کے معاملات پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے سپرد کرنے کی وجوہات طلب کیں مگر اپوزیشن لیڈر شہبازشریف خاموش رہے۔نیب زرائع کے مطابق تحقیقات میں سوال کیا گیا کہ ایک مسترد شدہ ٹھیکیدار کامران کیانی کے کہنے پر انکوائری کیوں کروائیتو شہباز شریف خاموش رہے۔ دوسراسوال کیا گیا کہ ٹھیکہ منسوخ کرنے سے متعلقہ مراسلہ اینٹی کرپشن کو بھیجنے سے پہلے کیوں لکھا۔ شہباز شریف ایک بار پھر خاموش رہے۔ نیب نے سوال کیا کہ فواد حسن فواد کو پی ایل ڈی سی کے افسران کو طلب کرنے کا کیوں کہا؟شہبازشریف نے جواب دیاکہ یاد نہیں کہ کیوں کہا تھا۔ نیب نے سوال کیا کہ فواد حسن فواد کو پی ایل ڈی سی کے افسران کو طلب کرنے کا کیوں کہا؟شہبازشریف نے جواب دیاکہ یاد نہیں کہ کیوں کہا تھا۔ سوال کیا گیا کہ احد چیمہ کو کیوں آشیانہ اقبال پراجیکٹ کی ذمہ داری دی؟ شہبازشریف نے جواب دیا کہ ریکارڈ دکھائیں پھر جواب دوں گا۔نیب لاہور نے شہباز شریف کے خلاف انکوائری میں انجنیئرنگ کنسلٹنسی سروسز کے افسران، پی ایل ڈی سی اور ایل ڈی اے کا ریکارڈ اورخواجہ منصور مظہر، شیخ علا الدین، طلحہ برکی، کرامت اللہ چوہدری، بشیر احمد، چوہدری لطیف کمپنی کے مالکان کو بھی طلب کرلیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…