بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

آپریشن سے بچے کی پیدائش :ایک عالمی وباء ہے

datetime 20  اکتوبر‬‮  2018 |

نیویارک (این این آئی)ایک تحقیق کے مطابق لاکھوں خواتین بچوں کی پیدائش کے لیے غیر ضروری طور پر آپریشن کراتی ہیں جبکہ ان کے ہاں بچے کی پیدائش محفوظ قدرتی طور پر بھی ممکن ہوتی ہے۔ خبردار کیا گیا ہے کہ یہ آپریشن زیادہ تر خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ایک نئی تحقیق کے نتائج کے مطابق دنیا بھر میں لاکھوں خواتین بچوں کی پیدائش کی خاطر غیر ضروری اور ممکنہ طور پر

خطرناک آپریشن کروا رہی ہیں۔ اس مطالعہ کے مطابق البتہ ان میں سے بہت سے خواتین قدرتی طریقے سے بچے کی پیدائش کر سکتی ہیں۔اس ریسرچ کے مطابق اختیاری آپریشن کے ذریعے بچوں کی پیدائش عالمی سطح پر ایک وباء بن چکی ہے۔اس تحقیق کے مطابق 2000 تا 2015 آپریشن سے بچوں کی پیدائش کے عالمی کیسوں میں تقریبا دو گنا اضافہ ہوا ہے۔ زچگی کے دوران طبی پیچیدگیوں سے نمٹنے کی خاطرسی سیکشن یعنی آپریشن اہم ثابت ہوتا ہے۔تاہم غیر ضروری طور پر ایسے آپریشنز کی وجہ سے صحت عامہ کے شعبے میں قلیل اور طویل المدتی اثرات سے نمٹنے کی خاطر زیادہ رقوم درکار ہوتی ہیں۔دی لینسیٹ میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق دس تا پندرہ فیصد کیسوں میں سرجری کی ضرورت ہوتی ہے تاہم 2000 میں تقریبا بارہ فیصد سی سیکشن کیے گئے جبکہ 2015 تک ایسے آپریشنز کی شرح اکیس فیصد تک پہنچ گئی۔عالمی ادارہ صحت اور یونیسیف کے اعدادوشمار کے مطابق 169 ممالک میں ناہمواریاں نوٹ کی گئی ہیں۔ ساٹھ فیصد ممالک میں بچوں کی پیدائش کی خاطر آپریشن کیے گئے جبکہ پچیس فیصد ممالک میں ضرورت کے باوجود آپریشن نہیں کیے گئے۔اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ایسی خواتین جو مالی لحاظ سے بہتر ہیں، بچوں کی پیدائش کے لیے ان میں آپریشن کرانے کی شرح زیادہ ہے۔ مزید بتایا گیا ہے کہ کچھ ممالک میں بچوں کی پیدائش کی خاطر سرجری کرانا دراصل ’فیشن ایبل‘ اور ’ماڈرن‘ ہونے کی علامت تصور کی جاتی ہے۔اس تحقیق میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایسے غیر ضروری آپریشنز ماؤں کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں، اس لیے ان کو روکنے کی خاطر حکومتی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ خواتین کو سی سیکشن اور قدرتی طریقے سے بچے کی پیدائش کے حوالے سے زیادہ معلومات فراہم کرنا چاہییں تاکہ وہ اپنے لیے درست فیصلہ کر سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…