جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ پھانسی اور عمر قید کے 74 ملزمان رہا کرنے کا حکم،دھماکہ خیز احکامات جاری

datetime 18  اکتوبر‬‮  2018 |

پشاور (این این آئی)پشاور ہائی کورٹ نے ملٹری کورٹس سے سزائے موت اور عمر قید کی سزا پانے والے 74 ملزمان کی اپیلوں کو منظور کرتے ہوئے ملزمان کی رہائی کے احکامات جاری کردیے۔ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس لال جان خٹک نے فوجی عدالتوں سے سزا یافتہ ملزمان کی اپیلوں پر سماعت کی۔واضح رہے کہ ملزمان کو فوجی عدالت نے دہشت گردی کے مختلف واقعات میں ملوث ہونے پر سزائیں سنائی تھیں تاہم ہائی کورٹ میں ملزمان کے خلاف جرم ثابت نہ ہونے پر

مختصر فیصلہ سناتے ہوئے سزائیں کالعدم کردیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق موصول ہونے والے 2 ملزمان کی عدالتی کارروائی کے مطابق دیر کے رہائشی زور آور خان نے اپنے چچا گل فراز کو فوجی عدالتوں کی جانب سے سنائی جانے والی سزائے موت کی سزا کے خلاف آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت پٹیشن دائر کی تھی۔ملزم کے وکیل شبیر حسین کا کہنا تھا کہ ان کے موکل پر کلے مردان میں جنازہ گاہ میں خود کش دھماکے، جس میں رکن خیبر پختونخوا اسمبلی عمران محمد سمیت درجنوں افراد شہید ہوئے تھے، کی تیاری کرنے اور سہولت کاری کا الزام تھا۔عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم کے اعترافی بیان جو اس کے حراست کے کئی سالوں بعد ریکارڈ کیا گیا تھا کہ علاوہ کوئی شواہد موجود نہیں تھے۔وکیل نے بتایا کہ ہنگو کے احسان اللہ کی جانب سے ان کے چچا کی سزائے موت کے خلاف آرٹیکل 199 کے تحت دائر پٹیشن پر بھی عدالت نے گرفتاری کے سالوں بعد ریکارڈ کیے گئے اعترافی بیان کے علاوہ کوئی شواہد نہ موجود ہونے پر بری کردیا۔ان پر 2009، 2010 میں ہونے والے خودکش حملوں کی معاونت کرنے اور 2011 میں پولیس اہلکاروں پر حملے میں بھی سہولت کاری کا الزام عائد تھا۔خیال رہے کہ یہ دونوں افراد ان 74 افراد میں شامل ہیں جنہیں عدالت نے بری کرنے کے احکامات جاری کیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…