جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

جو شخص وزیراعظم کے نام سے پہچاناجاتاہے وہ وزیراعظم کے منصب کی توہین ہے،مولانا فضل الرحمان نے کھری کھری سنادیں،سنگین الزامات عائد

datetime 18  اکتوبر‬‮  2018 |

کوئٹہ (این این آئی ) جمعیت علما اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ میرا دل نہیں کرتا کہ موجود حکومت کو حکومت کہوں جو شخص وزیراعظم کے نام سے پہچاناجاتاہے وہ وزیراعظم کے منصب کی توہین ہے، عام انتخابات ڈھونگ ،جھرلو تھے ،ضمنی انتخابات نے عام انتخابات کی قلعی کھول دی ہے ،انہوں نے یہ بات جمعرات کے روز کوئٹہ کے ہاکی گراونڈ میں علماء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی،

مولانافضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب ملک کاالیکشن کمیشن ڈھٹائی سے کہتا ہے کہ الیکشن صاف وشفاف ہوئے، ان کاضمیر بھی انہیں ملامت نہیں کرتا،مولانافضل الرحمان نے کہا کہ سی پیک کے معاہدے سے امریکہ ناراض ہوا ہے اس لئے ملک میں سیاسی بحران پید اکرکے وزیر اعظم نواز شریف کو عدالتوں میں گھسیٹا گیا ،ناہل قرار دلوایا گیا ،یہ لوگ اس شرط پر حکومت میں آئے ہیں کہ سی پیک کو ایک سال کیلئے موخر کیا جائے ،انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے امریکہ کی غلامی کو تسلیم کرلیا اب ہمیں بھی امریکی غلام کو تسلیم کرنے کا کہہ جارہا ہے ،ہم سر کاٹا سکتے ہیں مگر سر جھکا نہیں سکتے ہیں،مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ موجودہ حکمران اندرونی نہیں بیرونی ایجنڈے پر کارفرما ہیں،میں پاکستان کیساتھ اس قسم کے مذاق کو برداشت نہیں کرسکتا ہوں ،انہوں نے کہا کہ صدر ،وزیر اعظم اور گورنر ہاوسز کو یونیورسٹیز میں تبدیل کرنے کی باتیں کررہے ہیں مگر یہ قومی اثاثے ہیں ہم انہیں ایسا کرنے نہیں دیں گے ،انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونے کی ضرورت ہے تاکہ ملکر ڈاکووں سے ملک کو آزاد کرائیں ،مولانافضل الرحمان نے کہا کہ علماء سے زیادہ آزادی کی قدروقیمت کو کون جانتاہے،ہمارے اکابرین نے دو سو سال تک قربانیاں دیں، علما کرام نوجوان نسل کو اسلامی تعلیمات کی طرف راغب کریں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…