اسلام آباد (نیوز ڈیسک )ہمارے معاشرے میں جنس پر بات کرنے کو ایک ایسا شجر ممنوعہ سمجھا ہے جس کے نزدیک جانے پر کسی کو بھی راندہ درگاہ قرار دیا جاسکتا ہے جبکہ یہ ہماری زندگی کا ایک لازمی جزو ہے۔ دوسری جانب سائنس اور علوم کی ترقی نے اس موضوع کو بھی اپنی گرفت میں لے کر حیران کن انکشافات کیے ہیں جو بلا شبہ بنی نوع انسان کے بیماریوں کے خلاف تحفظ میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے قارئین تک مستند سائنسی تحقیقات پر مبنی خبر ہی پہنچائیں تاکہ جہالت کے باعث پھیلنے والے توہمات اور غیر حقیقی معلومات کا موثر سد باب کیا جاسکے۔ زیر نظر خبر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ سٹیٹ یونیورسٹی آف نیویارک البینی کی تحقیق کے مطابق قدرت نے انسان کے عضو تناسل کی صورت گری میں جس مہارت سے کام لیا ہے، اس کا کوئی ثانی نہیں۔ یہ عضو نہ صرف مرد کے جنسی خلیوں کی منتقلی کا کام کرتا ہے بلکہ اپنی مخصوص ساخت کی بنا پر اگر وہاں پہلے سے کوئی خلیے موجود ہوں تو ان کا صفایا بھی کرتا ہے۔ یاد رکھیے کہ قدرتی طور پر تمام جانداروں میں اپنی نسل کے بقا ءاور تحفظ کے لیے جینیاتی کوڈ پایا جاتا ہے اور اس کی اعلیٰ ترین صورت قدرت نے انسان میں رکھی ہے۔ برازیل میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق اگر عضو تناسل کا اگلا حصہ کسی حادثے یا بیماری کے باعث کٹ جائے یا کاٹنا ناگزیر ہو جائے تو بھی اس عضو کی فعالیت برقرار رہتی ہے۔ بعض اوقات کینسر جیسے موذی مرض کی وجہ سے مریضوں میں اس عضو کے اگلے حصے کو کاٹنا ضروری ہوجاتا ہے تاہم ایسے افراد بھی بعد ازاں معمول کی زندگی گذارنے کے قابل رہتے ہیں۔ ایک اور تحقیق میں سائنسدانوں نے یہ معلوم کیا ہے کہ عام حالات میں جس شخص کا عضو بائیں طرف جھکا? رکھتا ہو، ان کے دماغ کا بایاں حصہ زیادہ فعال ہوتا ہے اور اسی طرح دائیں جانب جھکا? کے معنی یہ ہیں کہ مذکورہ شخص کے دماغ کا دایاں حصہ زیادہ فعال ہے۔ یاد رہے کہ انسانی دماغ کے بائیں اور دائیں حصے الگ الگ امور سرانجام دیتے ہیں۔ بولنے کی صلاحیت، منطق اور ریاضی میں مہارت دماغ کے بائیں حصے کی رہین منت ہے اور دیکھنے کی صلاحیت کے ساتھ دوسرے افرادکو سمجھنے میں دایاں حصہ مہارت رکھتا ہے۔ کیلی فورنیا آکلینڈ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق مطابق ایسے افراد جنہیں ایستادگی کے مسائل کا سامنا ہے، ان کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ بغیر ایستادگی بھی اس عضو سے جینیاتی خلیوں کی منتقلی کا کام لیا جاسکتا ہے۔ جبکہ یونیورسٹی آف انڈیانا کی تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ جینیاتی مادے کے اخراج کی قوت جس قدر زیادہ ہوگی، اسی قدر مرد کا جنسی عمل کے متعلق اطمینان زیادہ ہوگا۔ فرانس میں ہونے والی ایک تحقیق یہ کہتی ہے کہ جنسی عمل کے دوران صرف آپ ہی نہیں بلکہ یہ عضو بھی مسکراتا ہے۔ اس تحقیق کے مطابق عام طور پر اس عمل کے لیے اختیار کی جانے والی پوزیشن ایسی ہوتی ہے کہ جس سے آپ کہہ سکتے ہیں کہ مسکراہٹ نمایاں ہوتی ہے۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
خانیوال میں مبینہ طور پر غیر فطری جنسی عمل کے نتیجے میں خاتون کی موت، شوہر گرفتار
-
وفاقی حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان
-
نئے بجٹ میں تنخواہ دارطبقے اور پنشنرزکی تنخواہوں میں اضافے کا امکان
-
لکڑی کا تختہ
-
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی شریف میڈیکل سٹی ہسپتال میں میجر سرجری
-
معروف ٹک ٹاکر حکیم بابر کو مبینہ طور پر شربت میں زہریلی چیز پلا دی گئی، اسپتال منتقل
-
پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 250 روپے مقرر کرنے کا مطالبہ
-
یکم جون سے گرد آلود ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی! الرٹ جاری
-
پوجا بھٹ نے اپنے باپ مہیش بھٹ کے اسلام قبول کرنے کا انکشاف کردیا
-
اقرار الحسن نے عمران خان سے معافی مانگ لی
-
ملک میں سونا ایک بار پھر مہنگا ہوگیا
-
پسند کی شادی کرنیوالا لڑکاہلاک، لڑکی کی ٹانگیں توڑ دی گئیں
-
عید کے موقع پر تصویر بنانے کے بہانے بلا کر مبینہ طور پر زہریلی چیز پلائی گئی،شکر ہے میری بیوی نے جوس...
-
امریکہ اور ایران میں معاہدہ طے پا گیا، صدر ٹرمپ کے دستخط کا انتظار



















































