اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

دودھ کازیادہ استعمال بھی خطر ناک ثابت ہو سکتا ہے

datetime 16  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) فائدہ مند چیزوں کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی نقصان دہ ہوتا ہے۔ یہ معاملہ کسی اور شے کے معاملے میں درست ہو یا نہ ہو تاہم دودھ کے معاملے میں سو فیصد سچ ہے۔ سوئیڈش ماہرین کی ایک تحقیق کے مطابق ایک دن میں ایک گلاس سے زائد دودھ کا استعمال مردو خواتین کیلئے بے حد خطرناک ہے اور یہ عام عقائد کے برعکس دراصل خواتین میں ہڈیوں کی ٹوٹ پھوٹ اور فریکچرز کا عمل زیادہ تیز کردیتا ہے۔اس تحقیق کیلئے ماہرین نے اسی اور نوے کی دہائی کے بیچ دو مختلف مواقع پر 61ہزار سے زائد خواتین سے ان کی دودھ پینے کی عادات کے حوالے سے ایک سوالنامے کو پرکروایا تھا۔ ایک اور تحقیق میں 45ہزار سے زائد مردوں سے دو مختلف مواقع پر یہی سوالنامے پر کروائے گئے۔ خواتین کے سروے میں بیس برس کے وقفے سے کئے گئے اس فالو اپ میں معلوم ہوا کہ 15ہزار سے زائد خواتین کا انتقال ہوچکا تھا جبکہ17ہزار سے زائد فریکچرز کا شکار تھیں۔ ان میں 4259خواتین کو کولہے کی ہڈی میں فریکچر ہوا تھا۔ مردوں میں یہ فالو اپ سروے گیارہ برس بعد کیا تھا جس میں معلوم ہوا کہ 5066مردوں کو فریکچرز ہوئے جبکہ دس ہزار سے زائد مردوں کی موت ہوچکی تھی۔ فریکچرز کی اس تعداد میں سے 1166کیسز کولہے کی ہڈی ٹوٹنے کے تھے۔ اعداد و شمار کے تجزیئے سے معلوم ہوا کہ دن میں تین یا اس سے زیادہ گلاس دودھ پینے والی خواتین میں موت اور فریکچر کی شرح اس سے کم دودھ استعمال کرنے والیوں کے مقابلے میں 1.9تھی۔ ماہرین کے مطابق دودھ کے ہر ایک گلاس کے اضافے کے ساتھ یہ شرح خواتین میں 1.15 جبکہ مردوں میں 1.3بڑھ جاتی ہے۔اس اعداد و شمار کی روشنی میں ماہرین تاحال یہ تو معلوم نہیں کرسکے ہیں کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہوتی ہیں جن کی وجہ سے مردو خواتین کیلئے دودھ نقصان دہ بن جاتا ہے تاہم یہ امر طے ہے کہ دودھ کے استعمال میں محتاط رہنا چاہئے اور ضرورت سے زیادہ استعمال کے بجائے اس کے استعمال کو محدود رکھنا چاہئے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیری مصنوعات کی زیادتی سے لیکٹوز کو ہضم کرنے کی صلاحیت جسم میں کم ہونے لگتی ہے اور عین ممکن ہے کہ مذکورہ خرابی بھی اسی سبب پیدا ہوتی ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…