پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

دودھ کازیادہ استعمال بھی خطر ناک ثابت ہو سکتا ہے

datetime 16  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) فائدہ مند چیزوں کا ضرورت سے زیادہ استعمال بھی نقصان دہ ہوتا ہے۔ یہ معاملہ کسی اور شے کے معاملے میں درست ہو یا نہ ہو تاہم دودھ کے معاملے میں سو فیصد سچ ہے۔ سوئیڈش ماہرین کی ایک تحقیق کے مطابق ایک دن میں ایک گلاس سے زائد دودھ کا استعمال مردو خواتین کیلئے بے حد خطرناک ہے اور یہ عام عقائد کے برعکس دراصل خواتین میں ہڈیوں کی ٹوٹ پھوٹ اور فریکچرز کا عمل زیادہ تیز کردیتا ہے۔اس تحقیق کیلئے ماہرین نے اسی اور نوے کی دہائی کے بیچ دو مختلف مواقع پر 61ہزار سے زائد خواتین سے ان کی دودھ پینے کی عادات کے حوالے سے ایک سوالنامے کو پرکروایا تھا۔ ایک اور تحقیق میں 45ہزار سے زائد مردوں سے دو مختلف مواقع پر یہی سوالنامے پر کروائے گئے۔ خواتین کے سروے میں بیس برس کے وقفے سے کئے گئے اس فالو اپ میں معلوم ہوا کہ 15ہزار سے زائد خواتین کا انتقال ہوچکا تھا جبکہ17ہزار سے زائد فریکچرز کا شکار تھیں۔ ان میں 4259خواتین کو کولہے کی ہڈی میں فریکچر ہوا تھا۔ مردوں میں یہ فالو اپ سروے گیارہ برس بعد کیا تھا جس میں معلوم ہوا کہ 5066مردوں کو فریکچرز ہوئے جبکہ دس ہزار سے زائد مردوں کی موت ہوچکی تھی۔ فریکچرز کی اس تعداد میں سے 1166کیسز کولہے کی ہڈی ٹوٹنے کے تھے۔ اعداد و شمار کے تجزیئے سے معلوم ہوا کہ دن میں تین یا اس سے زیادہ گلاس دودھ پینے والی خواتین میں موت اور فریکچر کی شرح اس سے کم دودھ استعمال کرنے والیوں کے مقابلے میں 1.9تھی۔ ماہرین کے مطابق دودھ کے ہر ایک گلاس کے اضافے کے ساتھ یہ شرح خواتین میں 1.15 جبکہ مردوں میں 1.3بڑھ جاتی ہے۔اس اعداد و شمار کی روشنی میں ماہرین تاحال یہ تو معلوم نہیں کرسکے ہیں کہ آخر وہ کون سی وجوہات ہوتی ہیں جن کی وجہ سے مردو خواتین کیلئے دودھ نقصان دہ بن جاتا ہے تاہم یہ امر طے ہے کہ دودھ کے استعمال میں محتاط رہنا چاہئے اور ضرورت سے زیادہ استعمال کے بجائے اس کے استعمال کو محدود رکھنا چاہئے۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیری مصنوعات کی زیادتی سے لیکٹوز کو ہضم کرنے کی صلاحیت جسم میں کم ہونے لگتی ہے اور عین ممکن ہے کہ مذکورہ خرابی بھی اسی سبب پیدا ہوتی ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…