ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

داعش کے ہاتھوں اغواء 130 شامی خاندانوں کا انجام بدستور نامعلوم

datetime 15  اکتوبر‬‮  2018 |

دمشق(این این آئی)چند ہفتے قبل شام میں شدت پسند تنظیم داعش کے جنگجوؤں نے دیر الزور میں آندھی اور طوفان سے فائدہ اٹھا کر البحرہ پناہ گزین کیمپ پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے جب کی داعش نے 130 خاندانوں کو یرغمال بنا لیا ۔عرب ٹی وی کے مطابق البحرہ کیمپ سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے کنٹرول میں ہے مگر دوسری جانب ڈیموکریٹک فورسز

کے ذرائع کا کہنا تھا کہ داعش کی جانب سیدیر الزور بالخصوص البحرہ کیمپ پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔دیر الزور میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز کی عسکری کونسل کی ترجمان لیلویٰ العبداللہ نے بتایا کہ داعش کے ساتھ جھڑپیں بدستور جاری ہیں۔ داعش کے حملوں میں ڈیموکریٹک فورسز کے متعدد اہلکار ہلکا ہوگئے ۔ انہوں نے بتایا کہ داعش نے حملے کے دوران ایک سو تیس خاندان اغواء کرلیے تھے۔ ان کا مستقبل نامعلوم ہے۔ترجمان نے کہا کہ ہمیں ان 130 خاندانوں کے انجام کے حوالے سے سخت خوف اور تشویش لاحق ہے کیونکہ ان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہوسکا ہے۔ ان کی بازیابی اور دہشت گردوں سے رہائی کی کوشش کر رہے ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نیاس بات کی سختی سے تردید کی کہ ان خاندانوں کو دیرالزور کی عسکری کونسل نییرغمال بنایا ہے۔لیلویٰ عبداللہ نے بتایا کہ داعش نے جن لوگوں کو یرغمال بنایا ہے ان میں داعش کے جنگجوؤں کے خاندان اور ان کی عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔ڈیموکریٹک فورسز کا ان پر حملے کا کوئی جواز نہیں۔ اس طرح کیالزامات بے بنیاد ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ دیر الزور میں داعش کو شکست دینا آسان نہیں۔ اس میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ دہشت گرد روزانہ سخت حملے کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شامی فوج اور سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے درمیان کوئی رابطہ نہیں اور نہ داعش کے خلاف لڑائی میں انہیں کسی دوسرے گروپ کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم سیرین ڈیموکریٹک فورسز کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…