جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

مبینہ بھارتی جاسوس کی پاکستانی جیل میں موت بھارتی سفارتخانہ اپنا شہری تسلیم کرنے سے تاحال انکاری لاش کا کیا کیا جائیگا؟پاکستان نے بڑا اعلان کر دیا

datetime 13  اکتوبر‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک) بھارتی سفارتخانے کو کوٹ لکھپت جیل میں بیماری کے باعث مرنے والے بھارتی شہری کی موت سے متعلق آگاہ کردیا گیا ۔ تاہم کرشن ودیا ساگر کے بھارتی شہری ہونے کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کرشن ودیا ساگر کے خلاف 2015ء میں دفعہ 420، 468، 471، 467 اور فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا

جس کے نتیجے میں کرشن ودیا ساگرکو 10ماہ قید اور 5ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی تھی ، کرشن ساگرکی سزا 20 اپریل 2016 میں مکمل ہوگئی تھی، اس کی شہریت کی تصدیق کے لئے بھارتی حکومت کو متعدد بار آگاہ کیا گیا لیکن بھارت کی طرف سے اس کی تصدیق نہ ہوسکی۔سرکاری دستاویزات کے مطابق کرشن ودیا ساگرکو 10مارچ 2017ء میں قونصلر رسائی دی گئی لیکن اس کے بعد بھی اس کی شہریت کی تصدیق کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا تھا، کرشن ساگر کچھ عرصے سے بیمار تھا اورجیل میں ہی اس کا علاج معالجہ کیا جارہا تھا تاہم جمعہ کے روز وہ چل بسا، اس کی لاش جناح ہسپتال کے سرد خانے میں رکھی گئی ہے اور اب بھارت کی طرف سے اس کی لاش واپس لینے کے لئے درخواست کا انتظار کیا جارہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی سفارتخانے ابھی تک اپنے مبینہ شہری کی لاش واپس لینے کے حوالے سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے ، اگر بھارتی سفارتخانے نے کرشن ساگر کو اپنا شہری تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی لاش واپس لی تو اسے لاوارث قرار دے کر ہندو مذہب کے رسم ورواج کے مطابق اس کی آخری رسومات ادا کردی جائیں گی۔رشن ودیا ساگرکو 10مارچ 2017ء میں قونصلر رسائی دی گئی لیکن اس کے بعد بھی اس کی شہریت کی تصدیق کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا تھا، کرشن ساگر کچھ عرصے سے بیمار تھا اورجیل میں ہی اس کا علاج معالجہ کیا جارہا تھا تاہم جمعہ کے روز وہ چل بسا، اس کی لاش جناح ہسپتال کے سرد خانے میں رکھی گئی ہے اور اب بھارت کی طرف سے اس کی لاش واپس لینے کے لئے درخواست کا انتظار کیا جارہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…