پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

عمران اور ریحام کی طلاق کے بعد بلاول بھٹو نے مجھے میسج کر کے کیاکہا تھا؟ مولا بخش چانڈیو نے حیران کن انکشاف کر دیا، جواب میں علی محمد خان نے بلاول سے ان کی ہوئی بات سے متعلق کیا بتایا، حامد میر بھی مسکرا پڑے

datetime 12  اکتوبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے حامد میر نے انکشا ف کرتےہوئے بتایا ہے کہ جنرل ضیا الحق نے جب جونیجو حکومت کو برطرف کیا اور اس کے بعد نگران حکومت قائم کی تو اس حکومت میں عمران خان کو شامل کرنے کی پیش کش کی ۔ عمران خان نے ان کی اس پیش کش پر معذرت کر لی تھی۔ حامد میر کی اس بات پر پروگرام میں شریک مہمان پیپلزپارٹی

کے رہنما مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ یہ اچھی بات ہے، جس کی اچھائی ہو گی وہ بھی گائی جائے گی ، ہم بولیں گے ۔ ہم نے کبھی کوئی برا لفظ کیا عمران خان کے بارے میں کہا ہے ، ان کی شخصیت پر کیا کوئی بات کی ہے؟اس موقع پر مولا بخش چانڈیو نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ جب عمران خان کی ریحام خان سے شادی ختم ہونےکا معاملہ سامنے آیا تو میر صاحب خدا ئے رب العزت کی قسم !بلاول بھٹو کا ہم سب کو میسج آیا کہ کوئی بھی خان صاحب! کی ذاتی زندگی پر بات نہ کرے۔اس موقع پر پروگرام میں تیسرے دوسرے مہمان تحریک انصاف کے علی محمد خان نےبھی ایک انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے بھی بلاول کو پھر ایک بات کہی ہے ۔ علی محمد خان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو عمر میں میرے سے کم ہیں لیکن ان میں میچورٹی ہے اور ایک ایشو جو اسمبلی میں اٹھا تھا اس حوالے سے میں ان کا پاس گیا ، انہوں نے مہربانی فرمائی ، اس کو حل کرنے میں ، اس موقع پر میں نے بلاول بھٹو کے کان میں ایک بات کہی وہ اس بات پر بہت مسکرائے اور وہ بات یہ تھی کہ میں نے ان سے کہا کہ آپ میں محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی پرچھائی موجود ہے اور نوجوانی میں ان میں ایک سنجیدہ سیاستدان کی طرح کی میچورٹی ہے۔ میں یہی کہوں گا کہ ایک دوسرے کے قائدین کو برا نہ کہا جائے، بھٹو ، بھٹو ہے اور عمران خان ، عمران خان ہے۔اس بات پر پروگرام کے میزبان حامد میر مسکرا پڑے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…