ہفتہ‬‮ ، 21 مارچ‬‮ 2026 

فلسطینیوں کے قتل عام میں کہیں آپ بھی حصہ دار تو نہیں ؟

datetime 17  مئی‬‮  2015 |

جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو اس کاخاتمہ یقینی ہوجاتا ہے لیکن یہ خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب قوم بیدار ہوجائے۔ آج غزہ کے معصوم ،نہتے ،بے گناہ اور بے سہارا فلسطینیوں پر اسرائیل کی بربریت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ خود کو مظلوم قوم بتاکر اسرائیل ان فلسطینیوں کی نسل کشی کررہا ہے اس پر ساری دنیا میں غم و غصہ پایا جارہا ہے لیکن یہ تمام ظلم ایک سوپر پاور کی سرپرستی میں ہونے کی وجہ سے بیشتر ممالک سوائے زبانی جمع خرچ کرنے کے کوئی عملی اقدامات نہیں کررہے ہیں۔ہزاروں فلسطینی شہید کئے جاچکے ہیں جن میں سینکڑوں بچے اور خواتین شامل ہیں۔انسانی حقوق ،جنگی قواعد کی کھلی خلاف ورزی ہورہی ہے پھر بھی دنیا یہودیوں کو روکنے سے قاصر ہے۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ مسلمانوں کا جو خون بہایا جارہا ہے اس پر عرب ممالک خاموشی اور بے حسی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ اسرائیل کی کھلی دہشت گردی پر صرف بیان بازی سے کام لیا جارہا ہے۔ اگر چاہیں تو یہ ممالک اسرائیل کے خلاف سخت قدم بھی اٹھاسکتے ہیں لیکن افسوس کہ ان ممالک نے جن میں سے چند ایک کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی ہیں، خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
حکمرانوں کی خاموشی کے باوجود عوام خاموش نہیں ہیں وہ کسی نہ کسی طرح سے اپنے غم و غصہ کا اظہار کررہے ہیں جن کے دل میں ذرہ برابر بھی انسانیت ہے وہ اپنے اپنے طریقے سے اسرائیل کی اس بربریت کی مخالفت کررہے ہیں۔ خود امریکہ ،برطانیہ اور یورپ میں بھی لوگ اسرائیل کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ ہمارے ملک میں مختلف سماجی و مذہبی تنظیموں کی جانب سے اسرائیل کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے لیکن صرف احتجاج کرنے سے اسرائیل پر کوئی اثر ہونے والا نہیں ہے کیونکہ جس ملک کو اقوام متحدہ کی پرواہ نہیں ہے وہ ان احتجاجوں کو کہاں خاطر میں لائے گا۔ سوشیل میڈیا پر اسرائیلی بربریت کی تصاویر دیکھ کر شاید ہی کوئی آنکھ ایسی ہوگی جس میں آنسو نہ آئے ہوں گے۔معصوم بچوں کی تڑپ، خون میں نہائی ان کی نعشیں ،ملبے کے نیچے دبے انسانوں کی کراہیں اسکولوں، مساجد، مدارس پر بمباری یہ سب دنیا کی آنکھوں کے سامنے کیا جارہا ہے اور دنیا بے بس تماشائی بنی ہوئی ہے۔ ہر انسان اس بربریت اور ظلم کا اسرائیل سے بدلہ لینا چاہتا ہے لیکن عام انسان اتنی طاقت نہیں رکھتا کہ وہ اسرائیل کو جنگ کے میدان میں ذرہ برابر بھی نقصان پہنچائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…