جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ایران اپنی تخریبی پالیسیوں کی پردہ پوشی کے لیے الزام تراشی کررہا ہے : سعودی سفیر

datetime 7  اکتوبر‬‮  2018 |

تہران(انٹرنیشنل ڈیسک)اقوام متحدہ میں متعیّن سعودی سفیر عبداللہ المعلمی نے کہا ہے کہ ایران اپنی تخریبی پالیسیوں کی پردہ پوشی کے لیے سعودی عرب کے خلاف الزام تراشی کررہا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انھوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام دو خط لکھے ہیں اور ان میں ایران کے سعودی عرب پر

اہواز شہر میں 22 ستمبر کو ایک فوجی پریڈ پر حملے میں ملوث ہونے کے بے بنیاد الزام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے ایرانی رجیم کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ خطے میں اپنی تباہ کن تخریبی پالیسیوں کی پردہ پوشی کے لیے دوسروں پر بے بنیاد الزام تراشی کررہا ہے اور اس نے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے اور خطے میں مداخلت کا سلسلہ بند کرنے کے بجائے سعودی عرب کے خلاف الزام تراشی شروع کردی ہے۔ولید المعلمی نے ان خطوط میں لکھا کہ ایران نے دہشت گردی کی مالی معاونت کرکے اپنی دولت کو ضائع کیا ہے جبکہ دوسروں کے داخلی امور میں مداخلت سعودی عرب کی پالیسی نہیں ہے اور وہ اپنے داخلی امور میں بھی دوسروں کی مداخلت کو مسترد کرتا ہے۔وہ مزید لکھتے ہیں کہ یمن میں ایران کی مداخلت اور اس کی جانب سے حوثیوں کی مالی اور اسلحی امداد دینے کے ناقابل تردید کافی شواہد موجود ہیں۔اس نے حوثیوں کو بیلسٹک میزائل دیے ہیں اور وہ لبنان کی حزب اللہ ملیشیا ایسی تنظیموں کے ذریعے شام ، بحرین ، یمن اور سعودی عرب میں عدم استحکام کی سرگرمیوں کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔سعودی سفیر نے ایرا ن میں القاعدہ کی شخصیات کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں سے متعلق بین الاقوامی رپورٹس کا بھی حوالہ دیا ہے۔انھوں نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی حکمت عملی کو تبدیل کرے، ہمسایہ ممالک کی خود مختاری اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…