بدھ‬‮ ، 17 جون‬‮ 2026 

ذیابیطس کی علامات 20 سال پہلے ہی سامنے آجاتی ہیں : طبی تحقیق

datetime 6  اکتوبر‬‮  2018 |

جاپان(مانیٹرنگ ڈیسک) ذیابیطس ٹائپ ٹو کی علامات کسی مریض میں اس کی تشخیص سے برسوں سے پہلے ہی سامنے آجاتی ہیں۔ یہ دعویٰ جاپان میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ خطرناک حد تک بلڈشوگر لیول میں اضافہ اور انسولین میں مزاحمت ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مرض میں مبتلا ہونے سے 20 سال قبل ہی سامنے آجاتی ہے، جس کے بعد مریض بتدریج

اس خاموش قاتل مرض کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ذیابیطس کی خاموش علامات اور بچاؤ کی تدابیر 27 ہزار سے زائد افراد پر کی جانے والی تحقیق میں کہا گیا کہ صحت مند طرز زندگی کو اسی وقت اختیار کرلینا چاہئے جب کسی شخص کا بلڈ شوگر لیول بڑھنا شروع ہوجائے تاکہ ذیابیطس کے مرض سے خود کو بچاسکے۔ ایزاوا ہاسپٹل کی تحقیق میں 27 ہزار سے زائد ایسے افراد کا جائزہ 2005 سے 2016 کے درمیان لیا گیا جنھیں ذیابیطس کا مرض لاحق نہیں تھا۔ تحقیق کے آغاز پر جسمانی وزن اور بلڈشوگر کو ریکارڈ کیا گیا اور 11 سال بعد ایک ہزار سے زائد افراد ذیابیطس ٹائپ ٹو کا شکار ہوگئے۔ تحقیق کے نتائج سے ثابت ہوا کہ جن لوگوں میں یہ مرض سامنے آیا، ان میں جسمانی وزن، بلڈ شوگر لیول اور انسولین کی مزاحمت جیسے مسائل اس مرض کی تشخیص سے 10 سال پہلے ہی سامنے آگئے تھے۔ یہ عارضے بتدریج اتنے بڑھ گئے کہ وہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کی شکل اختیار کرگئے۔ مثال کے طور پر 10 سال پہلے جن افراد کا کھانے سے پہلے بلڈ شوگر لیول 101.5mg/dl تھا، ان میں ایک دہائی بعد ذیابیطس ٹائپ ٹو کی تشخیص ہوئی، جبکہ جن افراد میں بلڈشوگر لیول 94.5mg/dl تھی، وہ اس سے محفوظ رہے۔ محققین کا کہنا تھا کہ کھانے سے پہلے 100mg/dl بلڈشوگر لیول نارمل ہے، سو سے 125 تک پری ڈائیبیٹس اور 126 سے زیادہ ہوجانے پر ذیابیطس کا مرض لاحق ہوجاتا ہے۔ 8 سے 10 گھنٹے تک کچھ کھانے یا پینے سے گریز کرنے کے بعد اس طرح بلڈشوگر لیول چیک کیا جاتا ہے۔ محققین نے دریافت کیا کہ جن افراد کا کھانے سے پہلے کا بلڈشوگر لیول 105mg/dl تھا، ان میں ذیابیطس کا مرض 5 سال بعد سامنے آیا جبکہ 110mg/dl بلڈشوگر لیول والے افراد ایک سال میں ہی ذیابیطس کے مریض بن گئے۔ اس تحقیق کے نتائج یورپی ایسوسی ایشن فار دی اسٹیڈ آف ڈائیبیٹس کانفرنس میں پیش کیے گئے۔

ذیابیطس سے قبل کی واضح علامات تو موجود نہیں مگر وہ کچھ ایسی ہوسکتی ہیں۔ جسم کے کچھ حصوں کی رنگت گہری ہوسکتی ہے اور ایسا عام طور پر گردن، گھٹوں، بغلوں یا کہنیوں میں ہوتا ہے۔ دیگر علامات میں بار بار پیشاب آنا، بہت زیادہ پیاس اور بھوک لگنا، چکر آنا، تھکاوٹ، نظر دھندلانا، خراشیں بہت دیر میں مندمل ہونا، ہاتھ یا پیروں میں درد یا سوئیاں چبھنے کا احساس وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ اگر آپ کو بھی ایسا کچھ محسوس ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں اور بلڈ گلوکوز کی اسکریننگ کروائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…