ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

استغفر اللہ۔۔ بھارت میں شادی شدہ مرد اور خواتین کوزنا کی قانونی اجازت۔۔سپریم کورٹ نے غیر ازدواجی تعلقات کو جائز قرار دیدیا

datetime 27  ستمبر‬‮  2018 |

نئی دہلی(نیوز ڈیسک )بھارتی سپریم کورٹ نے لبرل ازم کا ایک اور ثبوت دیتے ہوئے غیر ازدواجی تعلقات کو جائز قرار دے دیا، غیر ازدواجی تعلقات شادی کے لیے اچھاشگون نہین تاہم قابل سزا جرم نہیں ہے، مرد کو معلوم ہو کہ خاتون کسی کی بیوی ہے اور پھر تعلق قائم کرے وہ قابل سزا جرم ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کی سپریم کورٹ نے تعزیرات ہند یعنی انڈین پینل کوڈ(آئی پی سی)

کی دفعہ 497 کو جرم سے نکال دیا، جس کے تحت اب غیر ازدواجی تعلقات جرائم کی فہرست سے خارج ہوگئے ہیں۔چیف جسٹس دیپک مشرا کی سربراہی میں سپریم کورٹ کی 5 رکنی بینچ نے دفعہ 497 پر تاریخی فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایڈلٹری یعنی شادی شدہ مرد اور خاتون کے درمیان رضامندی کے ساتھ غیر ازدواجی تعلقات استوار ہوتے ہیں تو اسے جرم نہیں مانا جاسکتا۔سپریم کورٹ کی 5 رکنی بینچ میں ایک خاتون جج بھی شامل تھیں۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق جسٹس دیپک مشرا، جسٹس آر ایف نریمان، اے ایم خان ولکر، ڈی وائے چندریچد اور خاتون جج اندو ملہوترا کے بینچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ غیر ازدواجی تعلقات استوار کرنے پر شادی تو ختم کی جاسکتی ہے، تاہم اسے جرم قرار نہیں دیا جاسکتا۔بینچ نے اپنے فیصلے میں تعزیرات ہند کی دفعہ 497 کو انسانی حقوق کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دفعہ 14 اور 21 کے خلاف ہے۔چیف جسٹس دیپک مشرا کا کہنا تھا کہ اگرچہ شادی شدہ مرد و خواتین کی جانب سے غیر ازدواجی تعلقات استوار کرنا جرم نہیں، تاہم اگر ان سے کوئی تیسرا شخص یعنی اگر تعلقات استوار کرنے والی خاتون کا شوہر یا پھر مرد کی بیوی متاثر ہوکر خودکشی جیسا سنگین قدم اٹھاتے ہیں تو تعلقات قائم کرنے والے افراد کے خلاف خودکشی کے قوانین کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے۔سپریم کورٹ کی بینچ نے

دفعہ 497 کو خواتین کے خلاف امتیازی سلوک بھی قرار دیا۔ساتھ ہی عدالت نے یہ ریمارکس بھی دیے کہ غیر ازدواجی تعلقات شادی کے لیے اچھے ثابت نہیں ہوں گے۔خیال رہے کہ تعزیرات ہند کی دفعہ 497 کے تحت کسی بھی شادی شدہ مرد اور خاتون کے درمیان غیر ازدواجی تعلقات جرم تھے،تاہم اس میں سزا صرف مرد کو دی جاتی تھی اور خاتون اس سے بری الذمہ تھی۔اس دفعہ کے تحت اگر

کوئی بھی شادی شدہ مرد کسی ایسی خاتون سے جنسی تعلقات قائم کرتا ہے،جس متعلق اسے شبہ یا پتہ ہو کے وہ کسی اور کی بیوی ہے، وہ قانونی طور پر مجرم ہوگا اور اسے قید یا جرمانہ یا پھر دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔انڈیا ٹوڈے نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ غیر ازدواجی تعلقات میں صرف مرد کو ہی مجرم قرار دیے جانے کے خلاف گزشتہ برس اٹلی نژاد بھارتی صنعت کار جوزف شائن نے درخواست دائر کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…