جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

1973میں سائنسدان کی ذہانت نے مصر اور اسرائیل میں جنگ چھیڑ دی تھی: محمود یوسف سعادہ کی صاحبزادی کے والد بارے چونکا دینے والے انکشافات

datetime 18  ستمبر‬‮  2018 |

قاہرہ(انٹرنیشنل ڈیسک) 1973 میں اسرائیل اور مصر کے درمیان ہونے والی جنگ کا محرک ایک مصری سائنسدان ڈاکٹر محمود یوسف سعادہ تھے۔ اگر وہ نہ ہوتے تو شاید مصر اور اسرائیل کے درمیان جنگ بھی نہ ہوتی۔یہ حیران کن انکشاف مصری سائنسدان ڈاکٹر محمود یوسف سعادہ کی صاحب زادی ڈاکٹر سعاد محمود سعادہ نے عرب ٹی وی سے انٹرویومیں کیا،انہوں نے بتایا کہ 1973ء میں

جب صدر انور سادات صہیونی ریاست کو سبق سکھانے کا فیصلہ کرچکے تو اچانک انہیں عسکری قیادت کی طرف سے بتایا گیا کہ مصر کے دفاع کے لیے استعمال ہونے والے میزائلوں کے لیے مختص ایندھن زاید المیعاد ہوچکا ہے جسے دوبارہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ چونکہ 1972ء میں مصری صدر انور سادات نے ایک جنونی فیصلے کے تحت سوویت یونین کے ساتھ بھی تعلقات بگاڑ لیے تھے۔ اس لییسوویت یونین کی جانب سے میزائلوں میں استعمال ہونے والے ایندھن کی سپلائی بند ہوگئی تھی۔ جب صدر انور سادات کو بتایا گیا کہ میزائلوں کو چالو کرنے کے لیے ایندھن موجود نہیں تو وہ بہت پریشان ہوئے اور قریب تھا کہ جنگ ٹل جاتی، مگر ایک 35 سالہ سائنسدان محمود یوسف سعادہ نے مصری حکومت اور فوج کی مدد کی ناکارہ ہونے والے ایندھن کو دوبارہ کارامد بنایا اور ساتھ ہی خام تیل سے میزایلوں کے لیے ایندھن تیار کیا گیا۔جون 1973ء میں مصری حکومت نے فوج سے اسرائیل پر چڑھائی کے لیے مشورہ کیا۔ ماہرین سر جوڑ کر بیٹھے کہ آیا میزائلوں کو درکار ایندھن کی کمی کیسے پوری کی جائے؟۔ انہیں بتایا گیا کہ یہ مسئلہ ایک 35 سالہ سائنسدان محمود یوسف سعادہ حل کرسکتے ہیں۔ چنانچہ صدر کی طرف سے انہیں خصوصی گاڑی بھجوا کرمنگوایا۔ انہوں نے اپنی غیرمعمولی ذہانت کے ذریعے چند منٹ کے اندر اندر مسئلے کا حل بتا دیا۔ اس طرح صدر سادات اور مصری فوج کو درپیش ایک بڑی پریشانی کا حل نکل آیا۔

ماہر آثار قدیمہ اور ڈاکٹر محمود یوسف سعادہ کی صاحبزادی ڈاکٹرسعاد محمود سعادہ نے بتایا کہ میرے والد نے مصر کی مسلح افواج کے ساتھ مل کر میزائلوں کو درپیش ایندھن کی کمی کا آسان حل نکال لیا۔ انہوں نے استعمال شدہ ایندھن کو دوبارہ استعمال کے قابل بنایا اس کے علاہ خام تیل سے بھی بھاری مقدار میں ایندھن تیار کیا گیا۔ اس طرح مصر کو درپیش ایندھن کی کمی دور ہوگئی اور مصر نے یوسف سعادہ کی وجہ سے اسرائیل کے خلاف جنگ لڑی اور اس میں فتح بھی حاصل کی تھی۔

ڈاکٹر سعاد نے بتایا کہ اس کے والد پہلے کیمیائی صنعت کے شعبے سے وابستہ تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ الٹراساؤنڈ پر بھی کام کرتے۔ انہوں نے مصری حکام کو درپیش ایک اور مسئلے کا بھی حل نکالا۔ مصری محکمہ زراعت کو کھیتوں میں حشرات الارض اور چوہوں کے عذاب کا سامنا تھا جو فصلیں تباہ برباد کردیتے۔ کسانوں اور حکومت کے پاس ان سے نجات کا کوئی جادوئی حل نہ تھا۔ ڈاکٹرمحمود یوسف سعادہ نیاس مسئلے کا بھی حل نکالا۔ انہوں نے الٹراؤ ساؤنڈ لہروں کی مدد سے چوہوں کا خاتمہ کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…