جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

پاکستان، بھارت کو کونسی سہولت دینے کا خواہاں ہے؟ امریکی سینئر سفارتکار نے حیران کن دعویٰ کردیا

datetime 16  ستمبر‬‮  2018 |

واشنگٹن(اے این این) ایک سینئر امریکی سفارتکار نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کا جلد افغانستان سے رابطہ کرنا اس خواہش کا اظہار ہے کہ وہ زمینی راستے کے ذریعے افغانستان اور بھارت کے درمیان دوبارہ تجارت بحال کرنے کا خواہاں ہے،جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان زمینی راستہ دوبارہ کھلنے سے خطے کے تمام ممالک کو فائدہ پہنچے گا،بھارتی کمپنیاں افغانستان میں آہستہ آہستہ

اپنی سرمایہ کاری بڑھا رہی ہیں ۔ امریکی سفیر جوہن باس نے بھارتی اخبار اکنامک ٹائمز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان زمینی راستہ دوبارہ کھلنے سے خطے کے تمام ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔خیال رہے کہ پاکستان، بھارت کو زمینی راستے کے ذریعے افغانستان سے تجارت کی اجازت نہیں دیتا اور اعتراض اٹھاتا ہے کہ ٹرانزٹ ٹریڈ سے جڑے تکنیکی اور اسٹریٹجک مسائل کو پہلے حل ہونا چاہیے۔جوہن باس کا کہنا تھا کہ کچھ ماہ قبل پہلی مرتبہ پاکستانی حکومت نے اپنے زمینی راستے کے ذریعے بھارت اور افغانستان کے درمیان تجارت کو فروغ دینے کے لیے اپنے افغان ہم منصبوں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔افغانستان کے لیے امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ بھارتی کمپنیاں افغانستان میں آہستہ آہستہ اپنی سرمایہ کاری بڑھا رہی ہیں اور گزشتہ برس کی تجارتی اعداد و شمارسے ظاہر ہوتا ہے کہ دہلی نے 2کروڑ 70 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی جبکہ بھارتی کمپنیوں کی جانب سے 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری کا بھی امکان ہے۔اپنے انٹرویو کے دوران امریکی سفیر کا کہنا تھا افغانستان میں سیاسی استحکام پاکستان کے طویل ترین مفاد میں ہیں اور دونوں سمتوں میں بڑھتی ہوئی تجارت سے وسطی اور جنوبی ایشیا میں تعلقات بہتر ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو اور ڈیفنس سیکریٹری جم میٹس کے دورہ نئی دہلی کے دوران بھارت نے امریکا کی جانب سے ایران پر لگائی گئی پابندیوں کے معاملے کو بھی اٹھایا تھا۔واضح رہے کہ بھارتی عوام کی جانب سے اس معاملے کو جاننے میں کافی دلچسپی ظاہر کی گئی تھی کہ کس طرح امریکی پابندیاں چاہ بہار بندرگاہ پر اثر انداز ہوں گی۔چاہ بہار بندرگاہ ایران میں بھارت کے تعاون سے تیار کی جارہی ہے۔

جو بھارت کو افغانستان کے ذریعے جنوبی ایشیا سے جوڑتی ہے۔امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا کہ دو طرفہ تجارت کو بڑھانے اور جنوبی ایشیا کے ساتھ افغانستان کے رابطوں کو بہتر بنانے میں چاہ بہار کتنی اہمیت کی حامل ہے۔جوہن باس کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت کے ناروا رویے اور پڑوسی ممالک کو غیر مستحکم کرنے کی اس کی کوششوں کو دیکھتے ہوئے ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایران کے اوپر پابندیوں کو کس طرح بہتر کرکے دوبارہ نافذ کیا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…