جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

پاک چین ا قتصادی راہداری کے منصوبوں کو روکنے کی خبریں،عمران خان حکومت سے کیا طے پایا؟چینی وزارت خارجہ نے اہم ترین اعلان کردیا

datetime 10  ستمبر‬‮  2018 |

بیجنگ(این این آئی)چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری منصوبے کی رفتار بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔ترجمان چینی وزارت خارجہ کے مطابق پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے مستقبل اور تعاون کا تعین مشاورت سے کیا جائے گا اور اس منصوبے پر مشاورت پاکستان کی معاشی اور سماجی ترجیحات کے مطابق ہوگی۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان اور چین نے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعلقات مستحکم کرنے پر اتفاق کیا ہے ٗ وزیر خارجہ وانگ ڑی کے

دورہ پاکستان کا مقصد روایتی دوستی کی تجدید تھا۔چینی وزارت خارجہ کے مطابق چین قومی مفادات کے مطابق دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی مدد کرتا رہیگا، دونوں ممالک نے دفاعی اور سیکیورٹی تعاون مزید مستحکم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔دریں اثناء وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے متعلق برطانوی اخبار کی خبر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک کے لیے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔عبدالرزاق داؤد کا برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو سے متعلق وضاحتی بیان میں کہنا ہے کہ سی پیک منصوبے کے حوالے سے حالیہ انٹرویو کے کچھ حصے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیے گئے۔مشیر تجارت نے کہا کہ چین کے وزیر خارجہ کے دورے میں اسٹریٹیجک تعاون جاری رکھنے اور سی پیک منصوبوں کو پورا کرنے کے عزم کو دہرایا گیا اور اس منصوبے کے حوالے سے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔انہوں نے کہا کہ چین کو آگاہ کیا گیا کہ سی پیک ہماری قومی ترجیح ہے ٗ چینی وزیر خارجہ وانگ ڑی نے دونوں ممالک کے مفاد میں اس منصوبے کی اہمیت پر زور دیا۔مشیر تجارت نے کہا کہ پاک چین تعلقات ناقابل تسخیر ہیں اور دونوں ممالک میں راہداری منصوبے کے مستقبل سے متعلق مکمل یکسوئی ہے۔واضح رہے کہ برطانیہ کے معروف اقتصادی جریدے فنانشل ٹائمز نے

اپنی حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کی نئی حکومت چین کے ساتھ سی پیک معاہدے پر نظرِثانی پر غور کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق برطانوی اخبار کو دیئے گئے انٹرویو میں مشیر صنعت و تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا کہ سابق حکومت نے سی پیک پر چین سے بات چیت میں اپنی ذمے داری بخوبی نہیں نبھائی، تیاری کے بغیر مذاکرات اور معاہدے کرنے سے چین کو بہت زیادہ فائدہ پہنچا اور چینی کمپنیوں کو ٹیکس بریک اور دیگر مراعات دینے سے پاکستانی کمپنیاں نقصان میں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق عبدالرزاق داؤد نے یہ خیال بھی ظاہر کیا کہ اپنے اْمور منظم کرنے تک ان معاہدوں پر فی الحال ایک سال کے لیے عملدرآمد روک دینا چاہیے اور سی پیک کی مدت کو مزید 5 سال کے لیے بڑھایا بھی جاسکتا ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ عبدالرزاق داؤد کی اس تجویز سے دیگر وزراء اور مشیر بھی متفق ہیں کہ منصوبوں کی تکمیل کی مدت اور قرضوں کی ادائیگی کی مدت بڑھانا معاہدے منسوخ کرنے سے

بہتر آپشن ہوگاتاہم حکومت محتاط ہے کہ معاہدوں پر نظرثانی کے عمل میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ چینی حکومت ناراض نہ ہو۔برطانوی اخبار کے مطابق وزیر خزانہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان ملائشیا کی طرح اس معاملے کو ہینڈل نہیں کرنا چاہتا۔ ملائشیا نے چین کے تعاون سے جاری پائپ لائن پروجیکٹ بند کردئیے اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں شامل ریل لنک معاہدے پر نظر ثانی کررہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…