جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

سیگریٹ کے تین سطحی ٹیکس کے نظام میں تحقیقات غیرملکی کمپنیوں کے ٹیکسز میں 14 فیصد ، مجموعی کاروبار میں 62 فیصد اور منافع میں 218 فیصد اضافہ ہوا ہے،نیب کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 9  ستمبر‬‮  2018 |

ا سلام آباد(آ ن لائن) قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ غیرملکی کمپنیوں کے ٹیکسز میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ ان کے مجموعی کاروبار میں 62 فیصد اور منافع میں 218 فیصد اضافہ ہوا ہے۔مذکورہ اعداد و شمار نیب کی جانب سے سیگریٹ کے تین سطحی ٹیکس کے نظام میں تحقیقات کے بعد سامنے آئے۔پاکستان میں بنائی جانے والی سیگریٹ کے لیے ماضی میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا 2 سطحی نظام ہوا کرتا تھا، جبکہ 18۔2017 سے قبل فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی

سیگریٹ کے پیکٹ کی رٹیل پرائس کی بنیاد پر طے کی جاتی تھی۔اس نظام کے مطابق 88 روپے سے زائد قیمت والے پیکیٹ پر 74.12 روپے اور اس سے کم قیمت والے پیکیٹ پر 32.98 روپے لیے جاتے تھے۔تاہم تیسری سطح کے نظام کے بعد اب جس پیکیٹ کی قیمت 90 روپے سے زائد ہوگی اس پر 74.80 روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لی جاتی ہیاسی طرح 58.5 روپے سے زائد روپے والے پیکیٹ پر 33.4 روپے جبکہ 58.5 سے کم روپے والے پیکیٹ پر 16 روپے ایکسائز ڈیوٹی لگائی گئی تھی۔رواں مالی سال کے بجٹ کے اعلان کے وقت ایف بی ا?ر نے سیگریٹ بنانے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کو پہلی سطح سے دوسری سطح پر لانے سے روک دیا تھا تاہم دوسری سطح سے تیسری سطح پر لانے کی اجازت تھی۔نیب کی تحقیقات میں یہ بات سامنے ا?ئی کہ اس نظام نے غیرملکی کمپنیوں کو اپنی ایک پروڈکٹ کے علاوہ باقی تمام مصنوعات کو پہلی سطح سے دوسری یا تیسری سطح تک لانے کی اجازت دے دی تھی جس کے نتیجے میں 86 فیصد غیر ملکی برانڈز نے کم سے کم فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ادا کی۔ماضی میں سیگریٹ بنانے والی کمپنیوں کو 87 فیصد سیل کے بعد اپنے فی پیک پر بھی 32.98 روپے ادا کرنے ہوتے تھے، تاہم 3 سطحی نظام کے متعارف ہونے کے بعد انہیں 86 فیصد سیل پر صرف 16 روپے فی پیکٹ ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے۔نیب حکام نے بتایا کہ

اس نظام کے بعد کمپنیوں نے سیگریٹ کے پیکیٹس پر کمی اور انہیں کم سے کم ٹیکس ادا کرنا پڑا جس کے نتیجے میں ان کے سیلز میں اضافہ ہواان کا مزید کہنا تھا کہ نئے ٹیکس نظام کی وجہ سے صرف 2 غیرملکی کمپنیوں کو 33 ارب روپے ٹیکس سے چھٹکارا ملا۔واضح رہے کہ پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی سفارشات کے بعد نیب نے تحقیقات کا آغاز کیا جن میں یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ سیگریٹ بنانے والی کمپنیوں کو نئے ٹیکس نظام کی وجہ سے بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچ رہا ہے۔خیال رہے کہ پاکستان کے آڈیٹرل جنرل نے بھی سیگریٹ سیکٹر میں ٹیکس کی کمی کے بعد ملے جلے مشاہدات پیش کیے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…