اسلام آباد (آن لائن) وزیراعظم ہاؤس و آفس سے پروٹوکول کے خاتمہ کے برعکس وزارت پیٹرولیم و ذیلی اداروں میں پروٹوکول کے کئی افسران تعینات ہیں جو اب بھی وزارت کے اداروں کے سربراہوں کے پروٹوکول اور آؤ بھگت پر مامور ہیں۔ عمران خان کے اقتدار سنبھالتے ہی وزارتوں سے پروٹوکول افسران کو فارغ کرنے کا عزم کیا تھا
اور مثال کے طور پر وزیراعظم ہاؤس اور سیکرٹریٹ سے پروٹوکول کا مکمل خاتمہ کردیا لیکن وزارت پیٹرولیم کے آفس کے علاوہ او جی ڈی سی ایل‘ سوئی نادرن گیس ‘ سوئی سدرن گیس ‘ پی ایس او‘ منرل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور اوگرا وغیرہ میں اب بھی پروٹوکول کے نام پر کئی افسران موجود ہیں اور پروٹوکول کے نام پر قومی خزانہ پر بوجھ ہیں ان اداروں کے سربراہوں نے پروٹوکول کے نام پر کئی من پسند افراد کو بھرتی کررکھا ہے اور یہ لوگ افسران کی خدمت گزاری اور ذاتی کاموں پر مامور ہیں ۔ پی پی ایل کے افسران نے اسلام آابد میں باقاعدہ ایک آفس بنا رکھا ہے جو پروٹوکول کیلئے تعینات اہلکار موجود ہوتے ہیں۔ سوئی نادرن کے ایم ڈی اے نے بھی رپوٹوکول افسر رکھا ہوا ہے اس کے ماتحت کئی افسران موجود ہیں۔ عمران خان کی پالیسیوں کے برعکس ان اداروں میں پروٹوکول کے نام پر بے کار لوگوں کی بھرمار ہے جو صرف افسران کی خوشامد اور ذاتی نوکری کرنے کرکے مال لگا رہے ہیں جبکہ پروٹوکول کے نام پر اہلکارسرکاری گاڑیوں کا بھی بے دریغ استعمال کرتے ہیں۔ وزیراعظم ہاؤس و آفس سے پروٹوکول کے خاتمہ کے برعکس وزارت پیٹرولیم و ذیلی اداروں میں پروٹوکول کے کئی افسران تعینات ہیں جو اب بھی وزارت کے اداروں کے سربراہوں کے پروٹوکول اور آؤ بھگت پر مامور ہیں۔ عمران خان کے اقتدار سنبھالتے ہی وزارتوں سے پروٹوکول افسران کو فارغ کرنے کا عزم کیا تھا اور مثال کے طور پر وزیراعظم ہاؤس اور سیکرٹریٹ سے پروٹوکول کا مکمل خاتمہ کردیا



















































