جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

لاہو ر کی کتنی کثیر المنزلہ عمارتوں میں فائرسیفٹی آلات نصب نہیں ہیں؟محکمہ سول ڈیفنس کی رپورٹ میں ہوشربا انکشاف

datetime 9  ستمبر‬‮  2018 |

لاہور(آن لائن)محکمہ سول ڈیفنس نے انکشاف کیا ہے کہ شہر کی 125 سے زائد عمارتوں میں فائر سسٹم، فائر الارم، ایمرجنسی گیٹس اور آگ بجھانے کے آلات نہ ہونے کے باعث تقریباً 60 ہزار سے زائد شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔علی ٹاور میں لگنے والی آگ سے متعلق ابتدائی تحقیقات

مطابق کے پلازے کی انتظامیہ کو سول ڈیفنس کی جانب سے فایر سیفٹی کے ناقص انتظامات پر 28 اگست کو نوٹس جاری کیا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق عمارت میں سیفٹی آلات درست حالت میں تھے اور نہ ہی سنسر نصب تھے۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ آگ عمارت میں لگے چینج اور سویچ میں لگی جس نے پوری بیسمنٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔سول ڈیفنس کی جانب سے پلازوں کی سیفٹی سے متعلق مرتب کی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ صوبائی دارالحکومت میں 200 کثیر المنزلہ عمارتوں میں رہائش پذیر اور کام کرنے والے 60 ہزار سے زائد شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ہے۔سول ڈیفنس کی جانب سے ایل ڈی اے کو بتایا کہ اونچی عمارتوں میں ایمرجنسی میں حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے باعث شہریوں کی زندگی کو درمیانے اور کم درجے کے خطرات لاحق ہیں۔رپورٹ کے مطابق گلبرگ، ایم ایم عالم روڈ، فیروز پور روڈ اور دیگر علاقوں میں قائم بلند و بالا عمارتوں میں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ایمرجنسی سیڑھیاں ہی نصب نہیں ہیں۔اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ 30 کے قریب بڑی عمارتوں میں آگ بجھانے کے آلات ہی موجود نہیں ہیں اور دو درجن سے زائد عمارتوں میں ایمرجنسی ایگزٹ موجود ہے لیکن انہیں تالے لگا کر بند کیا ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…