منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

کس وزیر کی پھرتیاں عمران خان کیلئے مشکلات پیدا کرینگی؟وزیر اعظم کو خبر دار کردیا گیا

datetime 9  ستمبر‬‮  2018 |

کراچی(این این آئی) جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی ترجمان اور متحدہ مجلس عمل کی رابطہ کمیٹی کے سربراہ حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ عمران خان ٹاس جیت چکے ہے اور امپائر بھی ان کے ساتھ ہے مگر غلط مشورے دینے والے ان کا کام تمام کرنا چاہتے ہیں،عمران خان کا قادیانی مشیر کو ہٹانے کا فیصلہ قابل تعریف ہے بلآخر یوٹرن کا مثبت انداز سامنے آگیا، وفاقی وزیر اطلاعات کی رفتار تیز ہے۔

ان کی تیز رفتاری حکومت کے لیے مشکلات پیدا کرے گی اس لیے ان کو ’’اسپیڈبریکر‘‘کی ضرورت ہے،قادیانی آئین پاکستان کے تحت خود کو اقلیت نہیں مانتے اگر وہ آئین پاکستان کے تحت خود کو اقلیت تسلیم کریں تو ان کواقلیت کے تمام حقوق ملیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر قاری محمد عثمان، محمد اسلم غوری، مولانا عمر صادق، عبدالوحید سواتی، ظفر حسین بلوچ اور دیگر بھی موجود تھے۔ حافظ حسین احمد نے کہا کہ عمران خان کا قادیانی مشیر کو ہٹانے کا فیصلہ قابل تعریف ہے بلآخر اس کے یوٹرن کا ایک مثبت انداز سامنے آگیا ہے کیوں کہ یوٹرن لیتے وقت یہ خیال نہیں تھا کہ کبھی اس کا کوئی مثبت پہلو بھی سامنے آسکتا ہے ان کی اس عادت کی وجہ سے مثبت یوٹرن سامنے آگیا، انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے بروقت نشاندہی کی ہے کریڈٹ ان کو بھی جاتا ہے خصوصاً وفاقی وزیر مذہبی امور اور شیخ رشید کا کا کردار مثبت رہا ہے البتہ صبح کا بھولا اگرشام کو لوٹے تو اسے بھولا نہیں کہتے، انہوں نے کہا کہ اگرعمران خان کو ٹاس جیتے کے ساتھ بہتر مشورہ دینے والے بھی ہوتو امپائر کے بغیربھی کام چل جائے گالیکن یہاں امپائر بھی ساتھ ہے اور ٹاس بھی جیت چکے ہیں مگر غلط مشورے دینے والے ان کی کشتی کو ڈبونا چاہتے ہیں فی الحال تو وہ بچ گئے ہیںآگے دیکھیں کیا ہوتا ہے ، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا کام اچھے کاموں کی تعریف اور غلط کاموں پر تنقید کرنا ہے۔

جس دن اپوزیشن کی تنقید کو تنقید کے بجائے اصلاح سمجھا گیا تو بہتر نتائج کی امید کی جاسکتی ہے، انہوں نے کہا کہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو اسپیڈ بریکر کی ضرورت درپیش ہے کیوں کہ ان کی رفتار بہت تیز ہے اور وہ تیزی میں بہت کچھ کہہ جاتے ہیں جس کا خمیازہ دوسروں کو بھگتنا پڑے گاجس انداز میں حساس معاملات کو چھیڑا جارہا ہے اس سے حکومت کی مشکلات میں اضافہ ہوگا ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…