جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

عالمی عدالت کا روہنگیاؤں پرمظالم کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کااعلان

datetime 8  ستمبر‬‮  2018 |

دی ہیگ(انٹرنیشنل ڈیسک)بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے کہا ہے کہ انہیں روہنگیا مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی اور میانمار فوج کی جانب سے انسانیت کے خلاف کیے گئے ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے کا اختیار حاصل ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس بین الاقوامی ادارے کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں واضح کیا گیا کہ اس ادارے کو یہ اختیار حاصل ہے۔

وہ ایسے الزامات کی تحقیقات کر سکے کہ میانمار کی فوج نے روہنگیا مسلمانوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا ہے۔آئی سی سی کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ عدالت کو انسانیت کے خلاف جرائم اور روہنگیا کمیونٹی کی ملک سے بے دخلی کی تحقیقات کرنے کا اختیار حاصل ہے۔جاری ہونے والے بیان کے مطابق عدالت کو یہ اختیار اس وجہ سے بھی حاصل ہے کیوں کہ روہنگیا مہاجرین ایک سرحد عبور کر کے دوسرے ملک پہنچے ہیں۔ اس فیصلے سے امکان پیدا ہوا ہے کہ عدالتی تفتیش کار روہنگیا مہاجرین کے خلاف ہونے والے ممکنہ جرائم کی تفتیش اور اْس کے نتیجے میں ذمے دار افراد کو عدالتی کٹہرے میں کھڑا کر سکتے ہیں۔ عدالت نے استغاثہ کو یہ بھی کہا کہ وہ اس اختیار کو مد نظر رکھتے ہوئے تفتیش کا سلسلہ جاری رکھیں۔پراسیکیوٹر فاتاؤ بینساؤدا ممکنہ جنگی جرائم کے حوالے سے ابتدائی شواہد اکٹھے کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور مناسب شواہد ملنے کے بعد جامع تحقیقات کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق میانمار فورسز کی جانب سے روہنگیا کمیونٹی کو دھمکانے اور خوفزدہ کرنے کے لیے ریپ اور جنسی تشدد جیسی کارروائیاں باقاعدہ اسٹریٹیجی کا حصہ تھیں۔میانمار کی راکھین ریاست میں پولیس چوکیوں پر حملوں کے بعد حکومتی فورسز نے روہنگیا اقلیت کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا تھا۔ روہنگیا اقلیت کو دنیا کی سب سے زیادہ ظلم و تشدد کی شکار اقلیت قرار دیا جاتا ہے اور ان کو نہ تو میانمار اور نہ ہی بنگلہ دیش شہریت دینے پر تیار ہے،آئی سی سی کی طرف سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سب سے اعلیٰ ادارے نے کہا ہے کہ میانمار کی فوجی قیادت کے خلاف نسل کْشی کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔واضح رہے کہ میانمار کی فوج کی جانب سے پرتشدد کریک ڈاؤن کے بعد ایک برس کے عرصے میں تقریبا? سات لاکھ روہنگیا مسلمان راکھین ریاست سے اپنی جانیں بچاتے ہوئے بنگلہ دیش فرار ہونے پر مجبور ہو گئے تھے۔ یہ مسئلہ ایک بین الاقوامی مسئلے کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اسی تناظر میں اب انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے اپنا ایک فیصلہ سنایا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…