جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

عالمی عدالت کا روہنگیاؤں پرمظالم کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کااعلان

datetime 8  ستمبر‬‮  2018 |

دی ہیگ(انٹرنیشنل ڈیسک)بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے کہا ہے کہ انہیں روہنگیا مسلمانوں کی بڑے پیمانے پر بے دخلی اور میانمار فوج کی جانب سے انسانیت کے خلاف کیے گئے ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کرنے کا اختیار حاصل ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس بین الاقوامی ادارے کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں واضح کیا گیا کہ اس ادارے کو یہ اختیار حاصل ہے۔

وہ ایسے الزامات کی تحقیقات کر سکے کہ میانمار کی فوج نے روہنگیا مسلمانوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا ہے۔آئی سی سی کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ عدالت کو انسانیت کے خلاف جرائم اور روہنگیا کمیونٹی کی ملک سے بے دخلی کی تحقیقات کرنے کا اختیار حاصل ہے۔جاری ہونے والے بیان کے مطابق عدالت کو یہ اختیار اس وجہ سے بھی حاصل ہے کیوں کہ روہنگیا مہاجرین ایک سرحد عبور کر کے دوسرے ملک پہنچے ہیں۔ اس فیصلے سے امکان پیدا ہوا ہے کہ عدالتی تفتیش کار روہنگیا مہاجرین کے خلاف ہونے والے ممکنہ جرائم کی تفتیش اور اْس کے نتیجے میں ذمے دار افراد کو عدالتی کٹہرے میں کھڑا کر سکتے ہیں۔ عدالت نے استغاثہ کو یہ بھی کہا کہ وہ اس اختیار کو مد نظر رکھتے ہوئے تفتیش کا سلسلہ جاری رکھیں۔پراسیکیوٹر فاتاؤ بینساؤدا ممکنہ جنگی جرائم کے حوالے سے ابتدائی شواہد اکٹھے کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور مناسب شواہد ملنے کے بعد جامع تحقیقات کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق میانمار فورسز کی جانب سے روہنگیا کمیونٹی کو دھمکانے اور خوفزدہ کرنے کے لیے ریپ اور جنسی تشدد جیسی کارروائیاں باقاعدہ اسٹریٹیجی کا حصہ تھیں۔میانمار کی راکھین ریاست میں پولیس چوکیوں پر حملوں کے بعد حکومتی فورسز نے روہنگیا اقلیت کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا تھا۔ روہنگیا اقلیت کو دنیا کی سب سے زیادہ ظلم و تشدد کی شکار اقلیت قرار دیا جاتا ہے اور ان کو نہ تو میانمار اور نہ ہی بنگلہ دیش شہریت دینے پر تیار ہے،آئی سی سی کی طرف سے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سب سے اعلیٰ ادارے نے کہا ہے کہ میانمار کی فوجی قیادت کے خلاف نسل کْشی کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔واضح رہے کہ میانمار کی فوج کی جانب سے پرتشدد کریک ڈاؤن کے بعد ایک برس کے عرصے میں تقریبا? سات لاکھ روہنگیا مسلمان راکھین ریاست سے اپنی جانیں بچاتے ہوئے بنگلہ دیش فرار ہونے پر مجبور ہو گئے تھے۔ یہ مسئلہ ایک بین الاقوامی مسئلے کی شکل اختیار کر چکا ہے اور اسی تناظر میں اب انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے اپنا ایک فیصلہ سنایا ہے۔



کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…