جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ترکی، روس اور ایران ادلب میں جنگ بندی پر متفق نہ ہو سکے،سیاسی حل پر اتفاق

datetime 8  ستمبر‬‮  2018 |

ماسکو(انٹرنیشنل ڈیسک)روس، ایران اور ترکی کے صدور کے درمیان شامی صوبے ادلب میں جنگ بندی کے حوالے سے تہران میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے ۔ تاہم تینوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ ادلب کے تنازعے کا صرف سیاسی حل ہی ممکن ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایران، ترکی اور روس کے صدور کے درمیان شورش زدہ شامی صوبے ادلب کے مستقبل پر بات کرنے کے لیے

تہران میں اہم مذاکرات ہوئے۔ تاہم ادلب میں جنگ بندی کے حوالے سے شام کی جنگ کے اہم بیرونی فریقین یعنی ان تینوں ممالک کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ ایران اور روس نے ادلب کو باغیوں سے چھڑانے کے لیے فوجی آپریشن کی حمایت کی جب کہ ترکی نے جنگ بندی کی اپیل کی۔مذاکرات کے بعد تینوں صدور کی جانب سے جاری ہونے والے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ شام میں باغیوں کے زیر قبضہ ادلب صوبے کے تنازعے کا فوجی حل ممکن نہیں۔ اس مسئلے کا مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل نکالا جانا چاہیے۔ اس دستاویز کے مطابق ایران، ترکی اور روس کے صْدور نے ادلب کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا اور اس مسئلے سے آستانہ فارمیٹ کی طرز پر نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا۔تینوں رہنماؤں کے مابین ملاقات کے بعد روسی صدر پوٹن نے ایک بیان میں کہاکہ ہم نے ادلب میں غیر جنگ زدہ علاقے میں تسلسل کے ساتھ مرحلہ وار استحکام کے قیام کے لیے ٹھوس اقدامات پر بات چیت کی ہے۔ ادلب میں اْن باغی گروپوں کے ساتھ امن قائم کرنے کا بھی امکان ہے جو مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ اس علاقے میں بر سر پیکار دہشت گرد گروپوں کے نمائندے عقل سے کام لیتے ہوئے مزاحمت ترک کر دیں گے اور ہتھیار ڈال دیں گے۔اس سے قبل ترک صدر رجب طیب ایردوان نے انہی مذاکرات کے دوران کہا تھا کہ ان کا ملک ادلب سے فرار ہو کر آنے والے لاکھوں مہاجرین کی میزبانی کی سکت نہیں رکھتا۔

ایردوان نے مزید کہا کہ ادلب میں برسر پیکار عسکریت پسند گروپوں سے ہتھیار پھینکنے کا مطالبہ ایک واضح پیغام تھا جس سے مہاجرین کے بہاؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی تھی۔ علاوہ ازیں ترک صدر نے شامی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ شمال مغربی شامی صوبے ادلب میں جنگ بندی کا اعلان کرے۔ ایردوان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ادلب میں شامی حکومت کی جانب سے کارروائی نہ روکی گئی تو یہ اس کے لیے قومی سلامتی کا مسئلہ بن سکتا ہے جو ایک انسانی المیے کو جنم دے گا۔دوسری جانب ایران نے

تہران میں ہونے والے ان مذاکرات میں شام میں موجود امریکی افواج کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ شام میں امریکا کے دو ہزار سپاہی موجود ہیں۔ صدر روحانی کا کہنا تھاکہ ہمیں امریکا کو شام سے نکلنے پر مجبور کرنا ہو گا۔‘‘اس سے قبل سلامتی کونسل میں یورپی ممالک نے روس اور ایران سے شام میں جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ برطانیہ، فرانس، سویڈن، پولینڈ اور ہالینڈ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ شمال مغربی شامی صوبے ادلب میں فوجی کارروائی شہری آبادی کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…