منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

اقوام متحدہ کے امن مشن پر جانے والے پاکستانی فوجیوں کا ایسا کارنامہ کہ جان کر آپ کا بھی سینہ فخر سے چوڑا ہوجائے گا

datetime 7  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)بوسنیا کا سرد اور بے رحم محاذ ہو یا بے امنی کا شکار کوئی اور ملک اقوام متحدہ کے امن مشنز کے تحت پاک فوج کی کارکردگی نے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈالے رکھا ہے۔ پاک فوج کی قابلیت ، مہارت اور انسان دوستی کی داستانیں آج بھی زبان زدعام ہیں اور ایسا ہی کچھ افریقی ملک سیر الیون میں بھی ہوا جو جنگ کی تباہ کاریوں کے باعث بری طرح متاثر ہو چکا تھا

اور وہاں کے لوگ اور معاشرہ قتل و غارت گری کے باعث انحطاط کا شکار تھا۔ جنگ نے وہاں کے بچوں کے ذہنوں پر بھی اثر ڈالا تھا ۔ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام سیر الیون امن مشن کیلئے پاک فوج کا انتخاب کیا گیا اور پاک فوج کوسیر الیون میں امن بحال کرنے کا مشن سونپا گیا۔ پاک فوج کے دستے نے سیر الیون پہنچے اور انہوں نے اپنی پیشہ وارانہ مہارت اور قابلیت اور جنگی رموز سے آگاہی کی بدولت جلد ہی علاقے میں امن بحال کر دیا مگر قتل و غارت گری اور جنگ کی تباہ کاریوں کی وجہ سے وہاں کا معاشرہ خصوصاََ بچے بری طرح متاثر ہو چکے تھے۔ پاک فوج نے انسان دوستی کی نئی مثال قائم کرتے ہوئے وہاں کے بچوں کیلئے پارک اور کھیل کے میدان بنائے جو ایسا کام تھا جو ان کی ڈیوٹی میں شامل نہیں تھا مگر انہوں نے جنگ سے متاثرہ بچوں کے ذہنوں سے قتل و غارت گری کی خوفناک یادیں ختم کرنے کیلئے یہ نیک بھی کام کیا۔برطانوی نشریاتی ادارے کے ایک نمائندے نے جب ایک ایسے ہی پارک میں اچھلتے کودتے اور خوشی سے چہکتے بچوں کو دیکھا تو وہاں موجود ایک پاکستانی فوجی افسر سے بات چیت کیلئے پہنچ گیا۔ نمائندے نے پاکستانی افسر نے سوال پوچھا کہ ’’ سیرالیون میں آپ کے فرائض کیا تھے؟ ‘‘ پاکستانی فوجی افسر نے جواب دیا ’’ ہمارا فرائض یہاں امن بحال کرنا تھا۔ ‘‘ جس پر نمائندے نے کہا ’’ آپ اس سے بڑھ کر ذمہ داریاں سر انجام دے رہے ہیں۔ ‘‘

جس پر پاکستانی فوجی افسر نے کہا ’’ جی ہاں، ہم نے یہاں بچوں کیلئے پارک اور کھیل کے میدان بنائے ہیں تاکہ وہ جنگ کی یادوں کو بھول کر اپنی زندگی نارمل طریقے سے گزارنا شروع کریں، جس طرح وہ جنگ سے پہلے گزار رہے تھے۔‘‘اس کے بعد نمائندہ ایک بار پھر بچوں کی جانب متوجہ ہوتا ہے جو پاکستان کے نعرے لگا رہے تھے۔ اس نے بچوں سے پوچھا ’’ کیا آپ کو پاکستان اچھا لگتا ہے؟‘‘

سب بچوں نے بیک زبان کہا ’’ ہمیں پاکستان اچھا لگتا ہے! ‘‘ ان بچوں کی پاکستانی فوجیوں سے محبت اُن کے چہروں سے چھلک رہی ہے۔وہ سب پاکستان کے نعرے لگاتے ہوئے پاکستانی فوجی افسر کے اردگرد جمع ہو جاتے ہیں اور تشکرانہ مسکراہٹ کے ساتھ ایک یادگار تصویر بنواتے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…