جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

جو کوئی اس کو جانتا ہے فوراً مجھے اطلاع کرے، شیریں مزاری نے سوشل میڈیا پر وائرل ملازمہ پر تشدد کرنے والی خاتون کو نشان عبرت بنانے کا اعلان کر دیا

datetime 7  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جو کوئی اس کو جانتا ہے فوراً مجھے اطلاع کرے، وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے سوشل میڈیا پر وائرل ملازمہ پر تشدد کرنے والی خاتون کو نشان عبرت بنانے کا اعلان کر دیا، یاد رہے کہ گھریلو ملازمہ پر تشدد کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں مالکن ملازمہ پر تشدد کر رہی ہے اور تشدد کی وجہ یہ تھی کہ ملازمہ نے چائے میں پتی زیادہ ڈال دی تھی، تشدد کرنے والی مالکن ملازمہ سے سوال کر رہی ہے کہ اس نے چائے میں زیادہ پتی کیوں ڈالی، جب یہ ویڈیو سوشل میڈیا کے

ذریعے شیریں مزاری تک پہنچی تو انہوں نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ کیا کوئی اس عورت کی شناخت کرنے میں میری مدد کرسکتا ہے؟ یہ کون ہے اور کہاں سے اس کا تعلق ہے، کاروائی کرنے کے لیے اس معلومات کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری کے اس اقدام پر سوشل میڈیا صارفین انتہائی خوش ہیں اور ان کے اس اقدام کو سراہا جا رہا ہے جبکہ دوسری جانب تشدد کرنے والی مالکن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…